سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی کے مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تیزاب گردی ایک ایسا سنگین جرم ہے جو بعض صورتوں میں قتل سے بھی زیادہ اذیت ناک نتائج کا باعث بنتا ہے، اس لیے متاثرین کی مکمل طبی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی بحالی کو یقینی بنانا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے
تیزاب گردی قتل سے بھی بدتر جرم ہے، متاثرین کی بحالی ریاست کی ذمہ داری ہے،سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی کے مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تیزاب گردی ایک ایسا سنگین جرم ہے جو بعض صورتوں میں قتل سے بھی زیادہ اذیت ناک نتائج کا باعث بنتا ہے، اس لیے متاثرین کی مکمل طبی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی بحالی کو یقینی بنانا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے تحریر کیا جس میں فیصل آباد کی رہائشی اقراء پروین پر تیزاب پھینکنے کے جرم میں مجرم عبدالمنان کی عمر قید کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی گئی۔ عدالت نے متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متعدد اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ تیزاب گردی کے متاثرین کو معذور افراد کے کوٹے میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں روزگار، تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے۔عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نیشنل ایسڈ سروائیور ری ہیبلیٹیشن فنڈ کے قیام کے لیے قانون سازی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے علاج، پلاسٹک سرجری، خصوصی فزیکل تھراپی اور دیگر طبی ضروریات کے لیے مستقل بنیادوں پر فنڈز مختص کیے جائیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تیزاب گردی کے متاثرین صرف جسمانی نہیں بلکہ شدید نفسیاتی اور سماجی مسائل کا بھی سامنا کرتے ہیں، لہٰذا حکومتیں ان کی ’’سوشل ڈیتھ‘‘ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی معاونت، سماجی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے جامع پروگرام تشکیل دیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ متاثرین کے معاشی تحفظ کے لیے مناسب ماہانہ معاوضے یا مالی معاونت کا نظام وضع کیا جائے جبکہ قومی سطح پر بحالی سے متعلق ایسی ہدایات مرتب کی جائیں جن کے تحت متاثرین کی زندگی بھر علاج اور بحالی کے اخراجات مخصوص فنڈز سے پورے کیے جا سکیں۔فیصلے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ فیصلے کی نقول تمام ہائی کورٹس، سیکرٹری قانون و انصاف، قومی اسمبلی و سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں، تمام صوبائی محکمہ ہائے قانون، اٹارنی جنرل پاکستان اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو ارسال کی جائیں تاکہ فیصلے میں دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔








