عالمی یومِ سمندر: وزارت موسمیاتی تبدیلی ماحولیاتی ہم آہنگی کا پاکستان میں سمندری وسائل کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات پر زور

وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے عالمی یوم سمندر پر سمندری حیاتیاتی تنوع، ساحلی آبادیوں کے روزگار اور بلیو اکانومی کے تحفظ کیلئے مشترکہ قومی کوششوں پر زور دیا ہے ۔پیر کووزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے عالمی یوم سمندر پر سمندری حیاتیاتی تنوع، ساحلی آبادیوں کے روزگار اور بلیو اکانومی کے تحفظ کیلئے مشترکہ قومی کوششوں پر زور دیا ہے ۔پیر کووزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دنیا بھر میں آج عالمی یوم سمندر 2026ء ’’ری امیجن ہماری موجودہ دنیا سے آگے، سمندر کے ساتھ ایک نیا تعلق‘‘ کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور قدرتی وسائل کے غیر پائیدار استعمال سے پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وزارت کے مطابق سمندر عالمی موسمیاتی نظام کو متوازن رکھنے، آکسیجن کی فراہمی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور لاکھوں افراد کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کی تباہی نہ صرف ساحلی آبادیوں بلکہ غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور موسمیاتی لچک کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کےاعداد و شمار کے مطابق سمندر انسانوں کو دستیاب آکسیجن کا کم از کم 50 فیصد فراہم کرتے ہیں اور عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو جذب کرتے ہیں تاہم سمندری درجہ حرارت میں اضافہ، تیزابیت، پلاسٹک آلودگی اور وسائل کے بے دریغ استعمال نے سمندری حیات کوشدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

دنیا بھر میں بڑی مچھلیوں کی 90فیصد آبادی ختم ہو چکی ہے جبکہ تقریباً نصف مرجانی چٹانیں تباہ ہو چکی ہیں۔وزارت کے ترجمان اور ماہر موسمیاتی پالیسی محمد سلیم شیخ نے کہا کہ پاکستان کی 1050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، مینگرووز کے جنگلات، ماہی گیری کے وسائل اور ساحلی آبی ذخائر سمندری سطح میں اضافے، ساحلی کٹائو، آلودگی اور شدید موسمی واقعات سے متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمندر انسانی بقاء،موسمیاتی استحکام اور معاشی خوشحالی کی بنیاد ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سمندر کو محض وسائل کے ذخیرے کے بجائے ایک مشترکہ امانت سمجھتے ہوئے اس کے محافظ کا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس کے پائیدار استعمال کے لیے عالمی معاہدے بی بی این جے سمیت بین الاقوامی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔وزارت نے شہریوں،صنعتوں، تعلیمی اداروں، ماہی گیروں، ساحلی کمیونٹیز اور مقامی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ پلاسٹک آلودگی میں کمی، صفائی مہمات میں شرکت اور ماحول دوست طرز عمل اختیار کرکے سمندری وسائل کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔