پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے معاشی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ وفاقی بجٹ 27 2026 کے لئے معاشی پالیسی کو محض مالی اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی ترقی، روزگار، اور ماحولیاتی تحفظ کو مرکزی حیثیت دے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بار بار آنے والے بحرانوں سے نکل کر ایک ایسے نظام کی طرف جانا ہوگا …
بجٹ میں انسانی ترقی، روزگار اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دی جائے، بجٹ میں تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور آفات سے نمٹنے کی تیاری پر زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔ معاشی ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے معاشی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ وفاقی بجٹ 27 2026 کے لئے معاشی پالیسی کو محض مالی اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی ترقی، روزگار، اور ماحولیاتی تحفظ کو مرکزی حیثیت دے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بار بار آنے والے بحرانوں سے نکل کر ایک ایسے نظام کی طرف جانا ہوگا جو غربت، عدم مساوات اور موسمیاتی خطرات کو کم کرے۔ ایس ڈی پی آئی کے مطابق بجٹ میں تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور آفات سے نمٹنے کی تیاری پر زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہے جبکہ زراعت، ایس ایم ایز اور سبز معیشت کے ذریعے روزگار کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔ ادارے نے ٹیکس نظام میں اصلاحات، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ ساتھ ہی کلائمیٹ فنڈ کے قیام، ری سائیکلنگ انڈسٹری کے فروغ اور بڑے منصوبوں میں ماحولیاتی جانچ کو لازمی قرار دینے کی سفارش کی ہے۔بجٹ سے قبل اپنی سفارشات میں ایس ڈی پی آئی کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ اب بھی زیادہ تر بار بار آنے والے بحرانوں کے انتظام پر مرکوز ہے جب کہ وہ بنیادی کمزوریاں کم کرنے پر توجہ نہیں دیتا جو غربت، عدم مساوات اور ماحولیاتی خطرات کو بڑھا رہی ہیں۔پاکستان صرف مالی بحران کا شکار نہیں بلکہ یہ ایک مزاحمتی چیلنج سے دوچار ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پالیسی ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ حکومت کو تعلیم، صحت، غذائیت اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے بجٹ میں اضافہ کے ساتھ ماحولیاتی موافقت اور آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک ہر سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے بعد بحالی پر خرچ نہیں کر سکتا ۔ بجٹ کو صرف مالی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس کے غربت پر اثرات سے پرکھا جانا چاہئے ۔انہوں نے روزگار پیدا کرنے والے شعبوں خصوصاً زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) اور ابھرتے ہوئے سبز معاشی مواقع میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔ٹیکس کے حوالے سے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ تنخواہ دار اور دستاویزی شعبے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے معیشت کے ان حصوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اس دائرہ سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ اصلاحات کا فوکس ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر ہونا چاہئے۔انہوں نے جاری ٹیرف اصلاحات کی بھی حمایت کی اور کہا کہ ٹیرف کی بگاڑ کو کم کرنے سے صنعتی مسابقت بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ زیادہ بالواسطہ ٹیکس بالآخر عوام کی قوتِ خرید کم کرتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی ماہر ماحولیاتی پائیداری اور سرکلر اکانومی زینب نعیم نے تجویز دی کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد اور کاربن لیوی کی آمدنی کا 20 فیصد ایک علیحدہ کلائمیٹ فنڈ کے لئے مختص کیا جائے۔
انہوں نے ری سائیکلنگ انڈسٹریز کے لئے خصوصی مالی مراعات دینے کی بھی سفارش کی اور کہا کہ کچرے کو معاشی وسیلہ سمجھ کر پالیسی معاونت دی جائے تو اس سے سبز روزگار پیدا ہو سکتا ہے، سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ بجٹ کو محض کھاتوں کے توازن کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی تبدیلی کی علامت ہونا چاہئے۔ڈاکٹر ولید نے زور دیا کہ مالی فیصلے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پیداواری سرمایہ کاری اور انسانی سرمائے کی ترقی کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ کو محض خانہ پری نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے حقیقی اور جامع عمل بننا چاہئے۔انہوں نے قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لئے مضبوط ترغیبات کی بھی وکالت کی اور پالیسی میں تسلسل کی کمی کو سرمایہ کاری کے لئے خطرہ قرار دیا۔








