اسلام اختلاف کی بجائے مکالمے، طاقت کی بجائے انصاف اور ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی بھلائی کا درس دیتا ہے، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی عیدگاہ شریف کے سالانہ عرس میں خصوصی شرکت

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اسلام اختلاف کی بجائے مکالمے، طاقت کی بجائے انصاف اور ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی بھلائی کا درس دیتا ہے۔عیدگاہ شریف، راولپنڈی میں منعقدہ سالانہ عرس کی بابرکت تقریب میں انہوں نے خصوصی شرکت کی اور مریدین

راولپنڈی۔8جون (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اسلام اختلاف کی بجائے مکالمے، طاقت کی بجائے انصاف اور ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی بھلائی کا درس دیتا ہے۔عیدگاہ شریف، راولپنڈی میں منعقدہ سالانہ عرس کی بابرکت تقریب میں انہوں نے خصوصی شرکت کی اور مریدین، علماء کرام، مشائخ عظام اور معزز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سیرتِ نبویؐ اور اولیائے کرام کی تعلیمات کو عصر حاضر کے قومی و عالمی چیلنجز کے حل کے لئے رہنمائی کا جامع سرچشمہ قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے بانی عیدگاہ شریف شیخ المشائخ خواجگان حضرت خواجہ حافظ عبد الکریمؒ، ان کے جانشینوں اور موجودہ سجادہ نشین و روحانی قیادت کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عیدگاہ شریف سلسلہ عالیہ صدقیہ نقشبندیہ کی ایک عظیم روحانی درسگاہ ہے جہاں سے گزشتہ تقریباً ڈیڑھ صدی سے اسلام، محبت، رواداری اور انسان دوستی کا پیغام عام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں اس سلسلے سے لاکھوں افراد وابستہ ہیں جبکہ موجودہ سجادہ نشین کی عالمی سطح پر تبلیغی خدمات کے نتیجے میں بے شمار افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اولیائے کرام نے اپنی عملی زندگی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ رسول اکرمؐ کی تعلیمات تمام انسانیت کے لئے امن، عدل، محبت اور اجتماعی فلاح کا دائمی پیغام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اختلاف کی بجائے مکالمے، طاقت کی جائے انصاف اور ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی بھلائی کا درس دیتا ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے ریاستِ مدینہ کے تصور کو ایک تاریخی اور عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی تاریخ کا ایسا مثالی نظام تھا جس نے عدل، مساوات، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، معاہدات کی پاسداری اور اجتماعی ذمہ داری کو بنیادی حیثیت دی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ریاستوں کی مضبوطی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت، اخلاقی اقدار اور انسان دوستی سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات، سماجی ناہمواری، بے روزگاری اور دیگر چیلنجز کا پائیدار حل سیرتِ نبویؐ میں موجود دیانتداری، امانت، محنت، انصاف اور خدمتِ خلق جیسے اصولوں میں پوشیدہ ہے، اگر ان اقدار کو قومی ترجیحات کا حصہ بنایا جائے تو ملک کو زیادہ مستحکم، خوشحال اور ہم آہنگ بنایا جا سکتا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج دنیا جنگوں، انسانی بحرانوں، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، مذہبی و نسلی تعصبات، غربت، جبری نقل مکانی، ماحولیاتی تبدیلی اور اخلاقی بے یقینی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے

ایسے حالات میں سیرتِ طیبہ اور اولیائے کرام کی تعلیمات عالمی امن، انسانی وقار اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔انہوں نے نوجوان نسل میں برداشت، اعتدال، احترامِ انسانیت اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اولیائے کرام کی سرزمین ہے اور ہمیں اپنے روحانی ورثے کو قومی کردار سازی کا حصہ بنانا ہوگا۔تقریب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ کے نور سے اپنی زندگیوں کو منور کرنے، اولیائے کرام کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنے اور عدل، اخوت، رحم اور انسانیت پر مبنی معاشرے کے قیام کی توفیق عطا ء فرمائے۔