حکومت ہر پاکستانی کو مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کےمواقع کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے ، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کا ’’اے آئی سیکھو 2026‘‘ کےکامیاب اختتام پر منعقدہ تقریب سے خطاب

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت ہر پاکستانی کو مصنوعی ذہانت انقلاب میں حصہ لینے اور اس سے فائدہ اٹھانے کےمواقع کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نےگوگل، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ٹیلی نار پاکستان

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت ہر پاکستانی کو مصنوعی ذہانت انقلاب میں حصہ لینے اور اس سے فائدہ اٹھانے کےمواقع کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نےگوگل، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ٹیلی نار پاکستان ، اور انووسٹا کے اشتراک سے ’’اے آئی سیکھو 2026‘‘ کےکامیاب اختتام پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس اقدام نے ملک بھر سے ہزاروں خواہشمند ڈویلپرز، اختراع کاروں اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کو یکجا کیا اور پاکستان کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔اختتامی تقریب میں وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ٹیلی نار پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اویس وہرا، گوگل کے ریجنل لیڈ برائے ڈویلپر اینڈ بلڈر ایکوسسٹم سعد حامد ، انووسٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہشام سرور سمیت صنعت کے متعدد ماہرین بھی موجود تھے۔ تقریب میں شرکا کی کامیابیوں کو سراہا گیا اور ان ٹیموں کو اعزازات سے نوازا گیا جنہوں نے حقیقی مسائل کے حل کے لیے موثر اے آئی پر مبنی حل تیار کیے۔’

’اے آئی سیکھو 2026‘‘ کے آن لائن چیلنج میں 10,000 سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی جن میں 40 فیصد پیشہ ور ڈویلپرز شامل تھے جو پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس پروگرام میں 7,000 سے زائد شرکا نے فعال حصہ لیا، 2,600 سے زائد ٹیمیں تشکیل پائیں اور علاقائی و قومی مقابلوں کے ذریعے 600 سے زائد منصوبے جمع کرائے گئے۔گوگل کی جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرتے ہوئے شرکا نے مختلف شعبوں کے لیے ایپلی کیشنز اور انٹرایکٹو تجربات تیار کیے جن میں ان کی تکنیکی مہارت، تخلیقی صلاحیتوں اور مسائل حل کرنے کی قابلیت نمایاں رہی۔ علاقائی سطح پر جانچ پڑتال کے بعد چھ فائنلسٹ ٹیمیں قومی فائنل تک پہنچیں جہاں 25 لاکھ روپے مالیت کے انعامات کے لیے مقابلہ کیا گیا۔ پہلی پوزیشن سٹرگلر (کراچی) دوسری پوزیشن: نرچر (اسلام آباد) تیسری پوزیشن وائبرونکس (لاہور) نے حاصل کی۔ان ٹیموں نے قومی سطح کے اس اے آئی مقابلے میں غیرمعمولی جدت، تخلیقی صلاحیتوں اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ میں AI Seekho 2026 کے تمام جیتنے والوں اور شرکا کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

جیسا کہ پاکستان اپنی قومی اے آئی پالیسی کو آگے بڑھا رہا ہے، اس طرح کے اقدامات ایک اے آئی تیار پاکستان کے لیے درکار ٹیلنٹ پائپ لائن کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارا وژن واضح ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر پاکستانی کو اے آئی انقلاب میں حصہ لینے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے۔ ٹیلی نار کے اویس وہرا نے کہاکہ اے آئی سیکھو پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ہمارے عزم کی عملی مثال ہے جس کا مقصد لوگوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے جوٹیکنالوجی کو حقیقی اثرات میں تبدیل کر سکیں۔ میں فاتح ٹیموں کو مبارکباد دیتا ہوں اور ہر شریک کی جستجو، محنت اور عزم کو سراہتا ہوں۔ شرکا کی بڑی تعداد اور ان کے خیالات کا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی اے آئی ایکوسسٹم میں موثر کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے نوجوان اختراع کاروں کے لیے میرا پیغام ہے کہ سیکھتے رہیں، سوال اٹھاتے رہیں اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔گوگل کے سعد حامد نے کہاکہ اے آئی سیکھو کے ذریعے ہم ڈویلپرز کو جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور اپنے خیالات کو موثر حل میں تبدیل کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔ یہ پروگرام اس بات کی بہترین مثال ہے کہ درست ٹولز اور سیکھنے کے مواقع بڑے پیمانے پر جدت کو کس طرح فروغ دے سکتے ہیں۔

انووسٹا کے ہشام سرور نے کہا کہ اے آئی سیکھو نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جہاں وہ سیکھ سکتے ہیں، تخلیق کر سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات پاکستان کے اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور مستقبل کے رہنمائوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی دنیا کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ٹیلی نار پاکستان، وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، گوگل اور انووسٹا کے مشترکہ تعاون سے ’’اے آئی سیکھو 2026‘‘ نے جامع تعلیمی مواقع، رہنمائی اور ایکوسسٹم سپورٹ کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی تعلیم تک رسائی کو مزید عام بنایا۔ تکنیکی مہارتوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس اقدام نے شرکا کو پروڈکٹ ڈویلپمنٹ، ڈیزائن تھنکنگ، مسئلہ حل کرنے اور موثر انداز میں اپنی سوچ پیش کرنے جیسی اہم صلاحیتوں سے بھی آراستہ کیا جو خیالات کو قابل توسیع اور پائیدار حل میں تبدیل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں ’’اے آئی سیکھو 2026‘‘ نے #VibeKaregaPakistan کے تحت ملک گیر سطح پر اختراع کے کلچر کو فروغ دیا، نئی نسل کے تخلیق کاروں کو بااختیار بنایا اور ایک زیادہ ڈیجیٹل، جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پاکستان کی تعمیر کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔