قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی، قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے ، پی ایس ڈی پی کیلئے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 2218 ارب روپے اور ایس او ایز کیلئے 451 ارب روپے مختص

قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے ، وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2218 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے اور اڑان پاکستان کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری دیدی جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل …

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے ، وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2218 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے اور اڑان پاکستان کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری دیدی جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی امور پر اتفاق رائے سے فیڈریشن مزید مضبوط ہوگی ، اتفاق و اتحاد کا جذبہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے مشکل معاشی حالات میں وفاقی حکومت سے مثالی تعاون پر چاروں وزرائے اعلیٰ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اسی یکجہتی اور تعاون کے جذبے سے ملک ترقی کرے گا۔ وزیراعظم نے ملک میں معاشی استحکام کیلئے کوششوں پر معاشی ٹیم کی کارکردگی کی پذیرائی کی۔اجلاس کے شرکا نے خلیج میں حالیہ کشیدگی سے عالمی معیشت میں منفی اثرات کے باوجود پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملک کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین صحت کے نظام کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے بوجھ میں کمی، بچوں کی صحت بالخصوص سٹنٹنگ کا خاتمہ، سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا قومی ترجیحات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کی حکمت عملی پر کار بند ہے، برآمدات پر مبنی معیشت ترقی کیلئے اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو قومی ترجیحات اور پائیدار معاشی اہداف کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ قومی کاوشوں سے پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچائیں گے۔ اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کے 4 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔ اجلاس کو مالی سال 2025-26 کے لیے معیشت کی کارکردگی کے حوالےسے نظر ثانی شدہ اشاریے پیش کئے گئے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں وفاقی پی ایس ڈی پی پر 820 ارب، صوبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر 2938 ارب اور ایس او ایز پروگرام پر 355 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس نے مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے مختص کرنے بھی منظوری دے دی۔ قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2218 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔ قومی اقتصادی کونسل نے 2025-26 کیلئے مجموعی قومی پیداوار کی 3.7 فیصد شرح نمو اور اگلے مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کی منظوری دے دی۔ قومی اقتصادی کونسل نے متعلقہ وزارتوں، صوبوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سالانہ پلان 2027-2026 کے اہداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کریں۔

اجلاس کو اپریل 2025ء سے مارچ 2026ء تک سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک کی کارکردگی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی نے 316 ارب روپے کی 116 سکیموں جبکہ ایکنک نے 5.117 کھرب روپے کی 72 سکیموں کی منظوری دی۔ اجلاس کو 2025-26 کے میگا منصوبوں کی نگرانی اور جائزے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جائزے اور نگرانی کی نئی پالیسی بھی تشکیل دی جا چکی ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کی اے آئی کے ذریعے بھی جانچ پڑتال کا پائلٹ منصوبہ شامل ہے۔ قومی اقتصادی کونسل نے اڑان پاکستان کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری دی۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو ان مشنز کی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں سے مل کر روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی امور پر اسی طرح اتفاق رائے سے وفاق مزید مضبوط ہوگا اور اتفاق و اتحاد کا یہی جذبہ پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیراعلیٰ بلوچستان نواب سرفراز بگٹی، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور قومی اقتصادی کونسل کے دیگر ارکان شریک ہوئے۔