ایس ایس پی آپریشنز پشاورفرحان خان کی زیر صدارت تاجر وفود کیساتھ الگ الگ میٹنگز کا انعقاد

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کی زیر صدارت بدھ کے روز تاجر وفود کیساتھ الگ الگ میٹنگز کا انعقاد کیا گیا ۔تر جمان کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے مطابق اس موقع پر ایس پی سٹی ڈویژن شاہد عدنان، ایس پی کینٹ عبد اللہ احسان، ڈی ایس پی ہشنگری سرکل وارث خان، ڈی ایس پی کینٹ سرکل رضا محمد خان اور ڈی ایس پی سٹی احمد رشید خان بھی موجود …

پشاور۔ 10 جون (اے پی پی):ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کی زیر صدارت بدھ کے روز تاجر وفود کیساتھ الگ الگ میٹنگز کا انعقاد کیا گیا ۔تر جمان کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے مطابق اس موقع پر ایس پی سٹی ڈویژن شاہد عدنان، ایس پی کینٹ عبد اللہ احسان، ڈی ایس پی ہشنگری سرکل وارث خان، ڈی ایس پی کینٹ سرکل رضا محمد خان اور ڈی ایس پی سٹی احمد رشید خان بھی موجود تھے، میٹنگ کے دوران محرم الحرام کے پرامن انعقاد اور سکیورٹی پر تبادلہ خیال کرنے کیساتھ ساتھ چند ضروری تجاویز بھی پیش کی گئیں، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے کہا کہ شہر میں امن و امان کے قیام اور محرم الحرام کے پر امن انعقاد کے لئے تمام اہم اداروں کے عہدیداروں سمیت مختلف مکاتب فکر،تاجر برادری اور تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور رہنمائوں سے رابطے میں رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی طرح امسال بھی پشاور پولیس محرم الحرام کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لا ئی جائیگی۔

میٹنگز کے دوران تاجر تنظیموں کے رہنماؤں ملک مہر الہی، شاہد خان اور شرافت علی مبارک نے چند تجاویز پیش کیں جس پر ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے ترجیحی بنیادوں پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی، ایس ایس پی آپریشنز نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اورجلوسوں کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کی خاطر کیپٹل سٹی پولیس پشاور تمام وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے تمام امام بارگاہوں ، مساجد، بازاروں اور دیگر اہم مذہبی عبادت گاہوں اور حساس مقامات کی ازسر نو سکیورٹی آڈٹ کرانے اور سفارشات کی روشنی میں سکیورٹی پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی، انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں خصو صی ناکہ بندیا ں قائم کی جائے اور شہر کے تما م داخلی و خاری راستوں پر سنیپ چیکنگ کے عمل مزید تیز کر نے کی ہدایت کی،شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر مشکوک افراد کی کڑی نگرانی، سرائے اور ہوٹل میں قیام پذیر افراد پر نظر رکھنے اور نواحی علاقوں میں انفارمیشن بیسڈ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کرنے کی بھی ہدایات دیں۔