حکومت کو نیشنل سائبر فراڈ مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی تجویز دی ہے،طارق نواز

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد طارق نواز نے کہا ہے کہ سائبر فراڈ میں 40 فیصد مالیاتی فراڈز ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر موجود ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ حکومت کو تجویز دی ہے کہ نیشنل سائبر فراڈ مینجمنٹ سینٹر قائم کیا جائے جو ایسے فراڈ سے متاثرہ افراد …

کراچی۔ 10 جون (اے پی پی):نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد طارق نواز نے کہا ہے کہ سائبر فراڈ میں 40 فیصد مالیاتی فراڈز ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر موجود ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ حکومت کو تجویز دی ہے کہ نیشنل سائبر فراڈ مینجمنٹ سینٹر قائم کیا جائے جو ایسے فراڈ سے متاثرہ افراد کے متعلق معلومات متعلقہ اداروں تک بروقت پہنچا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر کیا۔ کاٹی ترجمان کی جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق طارق نواز نے مزید کہا کہ کاٹی کے اشتراک سے ایک مشترکہ لائحہ عمل اور ایک پلیٹ فارم تیار کریں گےجہاں صنعتکار اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ سائبر جرائم کے پیچھے منظم گروہ موجود ہوتے ہیں جن کے پاس انتہائی اہم معلومات تک رسائی ہوتی ہے، جس کی مدد سے وہ لوگوں کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہا کہ سائبر کرائم کے خاتمہ کیلئے پہلے مخبری یا ایسے عوامل کی روک تھام ضروری ہے جو ان جرائم پیشہ عناصر کو شہریوں کی انتہائی اہم معلومات تک رسائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی آگاہی کیلئے مختلف ذرائع سے معلومات فراہم کی جارہی ہیں ۔ عوام کو آن لائن فراڈ سے بچانے کیلئے اہم معلومات بھی فراہم کی جارہی ہیں کہ وہ اپنی اہم معلومات کو کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ طارق نواز نے مزید کہا کہ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے دھوکہ باز عناصر کے بہکاوے میں نہیں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے وقت کے ساتھ جرائم پیشہ عناصر بھی فراڈ کے نئے نئے طریقے دریافت کر رہے ہیں، اسی لئے ضروری ہے کہ لوگ باخبر رہیں اور ایسے عناصر کے دھوکے میں نہ آئیں۔

قبل ازیں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں بھی صنعت، تجارت، بینکاری، برآمدات، ای کامرس اور سپلائی چین کا بڑا حصہ اب ڈیجیٹل نظام پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی نے جہاں کاروباری مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں سائبر فراڈ، ڈیٹا چوری، رینسم ویئر حملوں، جعلی ویب سائٹس، فشنگ، مالیاتی دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری جیسے خطرات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ آج سائبر سیکیورٹی صرف آئی ٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ کاروباری تسلسل، سرمایہ کاری کے تحفظ، برآمدات کی ساکھ اور قومی معیشت کے استحکام کا مسئلہ بن چکی ہے۔ تقریب میں کاٹی کے ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ علی، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین دانش خان، سابق صدر فرحان الرحمان، مسعود نقی، ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے ارسلان منظور سمیت دیگر ممبران بھی موجود تھے۔

P