بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی روانی، ترقیاتی منصوبوں، پارکنگ، تجاوزات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق اہم اور دور رس احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ایک ماہ کے اندر عملی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی روانی،بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق اہم و دور رس احکامات جاری

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 10 جون (اے پی پی):بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی روانی، ترقیاتی منصوبوں، پارکنگ، تجاوزات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق اہم اور دور رس احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ایک ماہ کے اندر عملی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔
چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی پٹیشن نمبر 824/2016 کی سماعت کے دوران چیف منسٹرز پیکج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ، بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو، پاکستان ریلوے اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس کا جائزہ لیا۔عدالت نے سمنگلی روڈ کی توسیع کے منصوبے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کی جانب سے زمین کی قیمت 30 ہزار روپے فی مربع فٹ مقرر کرنے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس سے قومی خزانے پر تقریباً 295 ملین روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت زمین کے حصول کا واحد مجاز فورم ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ہے اور ڈی سی کے سروے اور قانونی کارروائی کے بغیر کنٹونمنٹ بورڈ کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمتی یادداشت یا معاہدہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس معاملے کو وزارت دفاع اور دیگر متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں، جبکہ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی ادارے کی جانب سے رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ شاپنگ مالز، پلازوں اور ہسپتالوں کے باہر ڈبل پارکنگ کے خاتمے کے لیے ٹریفک مارشل سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت تجارتی مراکز اپنے خرچ پر ٹریفک مارشل تعینات کرنے کے پابند ہوں گے۔ عدالت نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ہدایت کی کہ تمام کمرشل پلازوں کے تہہ خانوں اور گراؤنڈ فلورز کو غیر قانونی استعمال سے واگزار کرا کے صرف پارکنگ کے لیے مختص کیا جائے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے نجی سی سی ٹی وی کیمروں کو کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ سڑکوں پر طویل دورانیے کی پارکنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے فی گھنٹہ بڑھتی ہوئی پارکنگ فیس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے گنجان علاقوں خصوصاً کبیر بلڈنگ کے اطراف پارکنگ سائٹس کی نیلامی کو ٹریفک مسائل میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس پالیسی پر نظرثانی اور معطلی کی ہدایت بھی جاری کی۔عدالت کو مزید بتایا گیا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام اور روانی بہتر بنانے کے لیے بے نظیر فلائی اوور کو ہاکی چوک سے جوائنٹ روڈ کی جانب مستقل ون وے کرنے اور خطرناک یوٹرنز ختم کرنے کی تجویز پر کام جاری ہے۔ اسی طرح کوئلہ پھاٹک کی چار لین سڑک کو چھ لین تک توسیع دینے کے منصوبے کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور پاکستان ریلوے کے درمیان معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے جس کے بعد تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔بلوچستان ہائی کورٹ نے جوائنٹ روڈ پر ریلوے اراضی پر قائم تجاوزات کے خاتمے، حفاظتی رکاوٹوں کی تنصیب اور علاقے کو نو کارٹ زون قرار دینے کی سفارش بھی کی۔ عدالت نے پاکستان ریلوے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی زمین پر جاری اور مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے ٹریفک امپیکٹ اسسمنٹ کی بنیاد پر جامع ماسٹر پلان تیار کر کے متعلقہ اداروں سے اس کی منظوری حاصل کرے۔سماعت کے دوران سرینا چوک پر ٹریفک سگنل نصب ہونے کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ تک جج صاحبان، وکلائ اور عوام کی محفوظ رسائی کے لیے متبادل راستوں کی منظوری پر بھی غور کیا گیا۔ عدالت نے زرغون روڈ پر عیدالاضحیٰ کے دوران جانوروں کی آلائشوں کے باعث بند ہونے والے ڈرینیج چیمبرز کا نوٹس لیتے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور صفا کوئٹہ پراجیکٹ کو فوری صفائی اور نکاسی آب کی بحالی یقینی بنانے کا حکم دیا۔عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات پر عمل درآمد، زرغون روڈ، انسکومب روڈ اور ہاکی چوک کے لیے جامع ٹریفک پلان جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی 2026 تک ملتوی کر دی اور واضح کیا کہ کوئٹہ شہر کو درپیش ٹریفک اور شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے تمام اداروں کو مربوط اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات اور جدید شہری انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔








