ڈی جی سپورٹس پنجاب ، پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق کا ٹینس اور اوپن ٹینس کورٹس کا دورہ

ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب محمد طارق قریشی اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق نے نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ ٹینس کورٹ اور اوپن ٹینس کورٹس کا دورہ کیا، لاہور میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ویمنز ٹینس ایونٹ کی تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

لاہور۔10جون (اے پی پی):ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب محمد طارق قریشی اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق نے نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ ٹینس کورٹ اور اوپن ٹینس کورٹس کا دورہ کیا، لاہور میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ویمنز ٹینس ایونٹ کی تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈی جی سپورٹس نے اس موقع پر کہا کہ انٹرنیشنل ویمنز ٹینس ایونٹ میں کئی ممالک کی نامور خواتین کھلاڑی شرکت کریں گی، جس سے نہ صرف پاکستان میں ٹینس کے کھیل کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر ملک کا مثبت امیچ اجاگر ہوگا، مختلف ممالک کی معروف خواتین ٹینس کھلاڑیوں کی شرکت سے ایونٹ کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی اور شائقین کو اعلیٰ معیار کے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے،

ڈی جی سپورٹس نے مزید کہا ہے کہ سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام شروع ہونے والی سپورٹس اکیڈمیز کے انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے، ان اکیڈمیز میں 19 مختلف کھیلوں میں نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ ٹینس بھی اس میں شامل کیا گیا ہے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،ڈی جی سپورٹس نے کہا کہ نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس لاہور عالمی معیار کے ٹینس مقابلوں کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، کھیلوں کے فروغ اور بین الاقوامی ایونٹس کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق نے ٹینس کے فروغ کے لیے سپورٹس بورڈ پنجاب کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں خوش آئند قرار دیا، انہوں نے کہا کہ لاہور بین الاقوامی ویمنز ٹینس ایونٹ کا مرکز بنے گا اور انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی آمد سے پاکستان میں ٹینس کے کھیل کو فروغ حاصل ہوگا۔دورے کے موقع پر محمد طارق قریشی اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اعصام الحق نے ٹینس انفراسٹرکچر کا تفصیلی معائنہ کیا اور نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس میں کھلاڑیوں کے لیے دستیاب سہولیات اور دیگر انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔