وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 25 لاکھ مہاجرین کشمیر کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،ان کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ عام انتخابات میں عوام کے سامنے رکھا جائے،وہ ووٹ کی پرچی سے اس کا فیصلہ کریں گے
25 لاکھ مہاجرین کشمیر کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،ان کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ عوام کے سامنے رکھا جائے، خواجہ محمد آصف

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 25 لاکھ مہاجرین کشمیر کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،ان کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ عام انتخابات میں عوام کے سامنے رکھا جائے،وہ ووٹ کی پرچی سے اس کا فیصلہ کریں گے،پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں،ہم کشمیریوں کو پاکستانی سمجھتے ہیں،حیرت ہے اتنی نفرت کہاں سے آئی ،پی ٹی آئی کے بانی قانونی عمل کے تحت قید ہیں،اپوزیشن اس ایوان کا تقدس پامال نہ کرے،
ہماری قیادت نے بھی قید کاٹی ہے تاہم ہم نے سسٹم کو ڈی ریل کیا نہ اس ایوان کا تقدس پامال کیا۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری تمام قیادت قید میں رہی ، پیپلز پارٹی کی قیادت قید میں رہی، ہم نے ضرور اس پر احتجاج کیا لیکن ہم نے اس ایوان کے تقدس کو دائو پر نہیں لگایا،
ہم نے احتجاج کے لئے متعلقہ فورمز استعمال کئے، ہم نے سسٹم کو چیلنج نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ شریف فیملی کے سیاست کرنے والے اور سیاست نہ کرنے والے تمام افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے یہاں صرف بانی کی رہائی کی بات کرنے کے علاوہ کوئی پارلیمانی کارروائی میں حصہ نہیں لیا، یہ ادارہ سپریم ہے تاہم ایک شخص کے لئے اس کا استحقاق دوسال سے مجروح کیا جا رہا ہے، یہ ملک قائم ودائم رہے گا، افراد اور شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، ہر ایک نے یہاں سے جانا ہے، اگر ان کا لیڈر قید میں ہے تو اس کو جواز بنا کر اس ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ رویہ درست نہیں ،
یہ لیڈرشپ کی ہدایات پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں،پی ٹی آئی کے اکثر ممبران چاہتے ہیں کہ ایوان کی کارروائی چلے۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو کاری ضربیں لگائی گئی ہیں،اگر ہماری کمزوریاں نہ ہوتیں تو باہر سے آ کر کوئی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتاتھا، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے،یہ اپنے لیڈر کی رہائی کے لئےضرور ہر فورم پر لڑیں تاہم اس ایوان کو نقصان پہنچانے سے سب کا نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ ادارہ کمزور ہورہا ہے تو ہم نے اس کو مستحکم کرنا ہے، احتجاج ضرور کریں لیکن ایوان کی کارروائی متاثر نہ کریں، قانون سازی اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے اس میں خلل نہ ڈالیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجرین نےپاکستان کی سرزمین پر آنے کی قیمت ادا کی ، سیالکوٹ سرحد پار کرتےسوا دو لاکھ کشمیری شہید ہوئے، توی اور چناب ان کے خون سے سرخ ہوگئے، کالعدم ایکشن کمیٹی ان سے ووٹ کا حق چھیننے کی بات کر رہی ہے،
آزادکشمیر کے لئے سارے پاکستان نے قربانیاں دی ہیں،صرف کشمیریوں نے قربانی نہیں دی، 25 کروڑ پاکستانیوں کی اس سے وابستگی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ میں ایک تحصیل میں مہاجرین کشمیر کی ایک سیٹ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک جگہ وہ ڈوب کر جاں بحق ہونے والے ایک کشمیری بچے کی تعزیت کرنے گئے تو اس کے والد کے چہرے پر کوئی افسردگی نہ دیکھ کر میں حیرت زدہ ہوا تو اس نے بتایا کہ ہم نے مہاجرت کے دوران اپنی 11 بچیوں کو عصمت دری کے خوف سے بچانے کے لئے اپنے ہاتھوں سے دریا میں پھینکا۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین ان ایشوز کو عوام کے پاس لے کر جائیں اور ان کو فیصلہ کرنےدیں۔انہوں نے کہا کہ مہاجر نشستوں میں جہاں کم ووٹ ہیں وہاں مسئلہ ہے،
ہمارے علاقے میں مہاجرین آج بھی جہاں رہتے ہیں ان کو کیمپ کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حق میں ہیں لیکن جب آپ قانون ہاتھ میں لیں گے،سرکاری اہلکاروں کو شہید کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کریں گے ، کیا یہ لوگ سرحدپار سے آئے ہیں، تو پھر اس کا حل کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کے ان رویوں کی ایک تاریخ ہے، 50 کی دہائی میں بھی ایسے ہی احتجاج کئے گئے، ویلی اور جموں سے آنے والوں سے کشمیریت کی شناخت نہیں چھین سکتے، یہ معاملہ ووٹرز کے پاس لے جایا جائے وہ اس پر فیصلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کشمیر کو مدنظر رکھ کر اس کی حیثیت کا فیصلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے لاکھوں فوجی وہاں پر سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیا ، ہم اس کی تاحیات حفاظت کریں گے








