برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، ڈیجیٹلائزیشن، نجکاری اور ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا

برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، ڈیجیٹلائزیشن، نجکاری اور ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):حکومت نے معاشی استحکام کو پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، ڈیجیٹلائزیشن، نجکاری اور ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا، نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور ملک کو طویل المدتی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔

جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے پاکستان 2025-26 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید عالمی غیر یقینی صورتحال، تباہ کن سیلابوں، مشرق وسطیٰ کے بحران اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد شرح نمو حاصل کی جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ،وزیر مملکت برائے خزانہ وریلوے بلال اظہر کیانی ،چیئر مین ایف بی آر ، سیکرٹری فنانس ،سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سمیت اعلی حکام بھی موجود تھے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی معیشت کی مزاحمت، نظم و ضبط اور بحالی کی مکمل داستان ہے۔ ان کے مطابق مالی سال کے آغاز میں عالمی تجارتی اور ٹیرف پالیسیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، بعد ازاں مون سون بارشوں اور سیلابوں کے اثرات اور پھر علاقائی کشیدگی کے باوجود حکومت نے موثر معاشی حکمت عملی کے ذریعے استحکام برقرار رکھا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم پہلی مرتبہ 126.9 کھرب روپے یا 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ سال 408 ارب ڈالر تھا۔ اسی طرح فی کس آمدنی 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی جو معاشی سرگرمیوں اور آمدنی میں اضافے کی عکاس ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2023 میں معیشت 0.2 فیصد سکڑائو کا شکار ہوئی تھی جس کے بعد 2024ء میں 2.6 فیصد اور 2025ء میں 3.2 فیصد شرح نمو حاصل ہوئی جبکہ رواں مالی سال میں یہ بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔زراعت، صنعت اور خدمات میں بہتری کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ زرعی شعبے نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باوجود 2.89 فیصد نمو حاصل کی۔ فصلات کے شعبے نے دوبارہ مثبت نمو کی طرف واپسی کی جبکہ لائیو سٹاک نے اپنی مضبوط کارکردگی برقرار رکھی جو زرعی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔

صنعتی شعبے میں مجموعی طور پر 3.51 فیصد جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) میں 6.11 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جو چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔ 22 صنعتی شعبوں میں سے 16 نے مثبت کارکردگی دکھائی۔انہوں نے بتایا کہ سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد کی کھپت میں 17 فیصد، پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں 5 فیصد، گاڑیوں کی فروخت میں 31 فیصد اور موبائل فون کے استعمال میں 9 فیصد اضافہ ہوا جو کاروباری سرگرمیوں اور صارفین کے اعتماد میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور 4.09 فیصد سے 4.9 فیصد تک ترقی ریکارڈ کی جبکہ اطلاعات و مواصلات کے شعبے میں 7.52 فیصد نمو حاصل ہوئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت اب ملکی ترقی کا اہم ستون بنتی جا رہی ہے۔مالیاتی نظم و ضبط اور مہنگائی میں کمی کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 2.6 فیصد تھا۔ بنیادی سرپلس 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی آمدنی 10.7 فیصد اضافے کے بعد 14.8 کھرب روپے تک پہنچ گئی جبکہ سودی ادائیگیوں میں 23 فیصد کمی آئی جس سے ترقیاتی اور سماجی شعبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوئے۔مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جولائی تا اپریل اوسط افراط زر 6.2 سے 6.7 فیصد کے درمیان رہی جبکہ دو سال قبل یہ شرح 38 فیصد سے تجاوز کر چکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے مثبت اثرات عوام تک منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔بیرونی شعبے میں استحکام کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران جاری کھاتہ 72 ملین ڈالر سرپلس میں رہا جبکہ مجموعی کرنٹ اکائونٹ خسارہ محدود ہو کر 252 ملین ڈالر تک آ گیا۔انہوں نے کہا کہ 29 مئی 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد اضافہ ہے جبکہ مارچ 2026ء کے اختتام پر ذخائر 21.8 ارب ڈالر کی سطح تک بھی پہنچے تھے۔ پاکستان کے پاس تقریباً 2.75 ماہ کی درآمدات کے برابر امپورٹ کور موجود ہے۔ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ پر محمد اورنگزیب نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ مئی 2026ء میں ایک ہی ماہ کے دوران ریکارڈ 4.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

مجموعی طور پر ترسیلات زر 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.2 فیصد زیادہ ہیں۔آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ جولائی تا اپریل آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ فری لانسرز کی برآمدی آمدنی 856 سے 959 ملین ڈالر کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے تحت سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ فائیو جی سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی سے تقریباً 510 ملین ڈالر حاصل ہوئے جو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔سرمایہ کاری، کاروبار اور سماجی شعبہ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ کے ایس ای-100 انڈیکس میں 18.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رواں سال 11 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہوئی اور ملک بھر میں 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 3 لاکھ تک پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 22 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جولائی تا مارچ 934 ارب روپے کے اضافی قرضے جاری کیے گئے۔ زرعی شعبے کو 2,162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے اور کم لاگت گھروں کی سکیم کے تحت 11 ارب روپے سے زائد تقسیم کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے شعبے میں حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا ہے۔ شرح خواندگی 63 فیصد، سکول حاضری 67 فیصد اور حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج 73 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ اوسط متوقع عمر 67.8 سال ریکارڈ کی گئی۔

موسمیاتی خطرات اور مستقبل کا لائحہ عمل پر وزیر خزانہ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن یہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025ء کے سیلابوں سے 822 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے، نجکاری اور اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل جاری رکھے گی تاکہ پاکستان آنے والے برسوں میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے اہداف حاصل کر سکے۔