پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، بڑی صنعتوں میں بحالی کا عمل وسیع بنیادوں پر جاری ہے ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی میڈیا بریفنگ
پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، بڑی صنعتوں میں بحالی کا عمل وسیع بنیادوں پر جاری ہے ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی میڈیا بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، بڑی صنعتوں میں بحالی کا عمل وسیع بنیادوں پر جاری ہے اور سرمایہ کاری، برآمدات، کاروباری سرگرمیوں اور مالیاتی شعبے میں مثبت پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔اقتصادی سروے 2025-26 کے اجراء کے موقع پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کے 16 شعبوں میں مثبت نمو دیکھی گئی جن میں خوراک، ٹیکسٹائل، ملبوسات، پٹرولیم مصنوعات، غیر دھاتی معدنیات، آٹوموبائل، مشروبات اور برقی آلات شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صنعتی سرگرمیاں دوبارہ رفتار پکڑ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان کی ویلیو ایڈڈ برآمدات بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔
جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران ویون گارمنٹس کی برآمدات میں 5 فیصد، ہوم ٹیکسٹائل میں 3 فیصد اور نِٹڈ گارمنٹس میں 3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں 18 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستانی ساختہ فٹ بال کا عالمی ٹورنامنٹس میں استعمال ملکی سپورٹس انڈسٹری کی بین الاقوامی مسابقت کا واضح ثبوت ہے۔سرمایہ کاری کے رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں رقوم کی آمد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق جہاں پہلے ماہانہ بنیاد پر 180 سے 190 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آتی تھی، وہ اپریل میں بڑھ کر 322 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی جبکہ مئی میں بھی اسی سطح کے برقرار رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ہائوسنگ، کیپٹل مارکیٹ اور مختلف حکومتی سرمایہ کاری سکیموں کو سہارا دے رہی ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ایک سال کے دوران تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار نئے سرمایہ کار مارکیٹ کا حصہ بنے ہیں۔ اسی عرصے میں 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جن میں تقریباً تمام رجسٹریشن ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مکمل کی گئیں۔ اس طرح ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد تقریباً تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں کے بعد 11 ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) کا کامیابی سے مکمل ہونا سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے جبکہ سٹاک مارکیٹ میں درج کمپنیوں کی آمدنی میں 22 فیصد اضافہ بھی کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر خزانہ نے آئی ٹی شعبے کو پاکستان کی معیشت کا ابھرتا ہوا ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ فری لانسنگ کے ذریعے تقریباً 900 ملین ڈالر کی برآمدات حاصل ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی تربیت دی جائے تو ان کی فی گھنٹہ آمدنی 10 سے 12 ڈالر سے بڑھ کر 50 سے 400 ڈالر تک جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو پاکستان کی معیشت میں مواقع نظر نہیں آ رہے تو اسے حالیہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق متعدد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں یا اپنی موجودہ سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہی ہیں جن میں گوگل ،بی وائی ڈی، آرامکو، علی بابا گروپ، اے ڈی پورٹس، نیسلے، مشرق بینک اور ترک پٹرولیم پاکستان میں داخل ہو چکی ہیں۔قرضوں کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے 2023ء میں 75 فیصد تھا جو اب کم ہو کر 68.5 فیصد رہ گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کا 40 سے 45 فیصد حصہ رعایتی قرضوں پر مشتمل ہے جو عالمی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے طویل المدتی بنیادوں پر حاصل کیے گئے ہیں۔انہوں نے سعودی عرب اور چین سمیت دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں ان ممالک نے پاکستان کی معاونت جاری رکھی۔ ان کے مطابق پاکستان نے عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کرتے ہوئے کامیابی سے بانڈز جاری کیے ہیں جن میں پانڈا بانڈ بھی شامل ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پانڈا بانڈ کی لاگت تقریباً 3 فیصد رہی جو کم لاگت فنانسنگ کے حصول میں ایک اہم کامیابی ہے۔ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سیمنٹ اور چینی کے شعبوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے تقریباً 60 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کیا گیا جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی آڈٹ اور رسک بیسڈ کمپلائنس اقدامات سے مزید 34 ارب روپے جمع کیے گئے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے، غیر ضروری ضوابط کے خاتمے اور ریگولیٹری اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں طبی آلات کی رجسٹریشن میں دو سے تین سال لگتے تھے تاہم اصلاحات کے بعد یہی عمل چند ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد تک آ چکی ہے جبکہ کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے زرعی اور ہائوسنگ شعبے سمیت 6 سے 7 نئی سبسڈی سکیمیں متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے جن کے تحت طویل المدتی اور کم شرح سود پر فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ کراس سبسڈی کے بتدریج خاتمے سے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ کم ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل جاری ہے اور اگر منصوبہ بندی کے مطابق پیش رفت ہوئی تو رواں سال کے اختتام تک تین تقسیم کار کمپنیاں نجی شعبے کے حوالے کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کی شرح کو جی ڈی پی کے 15 فیصد سے اوپر لے جانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ریگولیٹری رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل اب بھی بڑے چیلنجز ہیں تاہم حکومت اصلاحات، نجکاری، ڈیجیٹلائزیشن اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے ماڈل پر عمل پیرا ہے تاکہ ملک کو پائیدار معاشی نمو کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔








