وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کا قومی اقتصادی سروے جاری کر دیا۔ سروے کے نمایاں خدوخال کی اہم جھلکیاں درج ذیل ہیں حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ مالی سال میں 3.2 فیصد تھی۔ پاکستان کی معیشت کا حجم 11 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 452.1 ارب ڈالر (126.9 ٹریلین روپے) تک پہنچ گیا
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے نمایاں خدوخال کی اہم جھلکیاں

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کا قومی اقتصادی سروے جاری کر دیا۔ سروے کے نمایاں خدوخال کی اہم جھلکیاں درج ذیل ہیں
حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ مالی سال میں 3.2 فیصد تھی۔
پاکستان کی معیشت کا حجم 11 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 452.1 ارب ڈالر (126.9 ٹریلین روپے) تک پہنچ گیا۔
فی کس آمدنی 9 فیصد اضافے سے 1,901 امریکی ڈالر ہو گئی۔
زراعت کے شعبے نے 2.89 فیصد شرح نمو حاصل کی۔صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.51 فیصد رہی، جبکہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (LSM) میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایل ایس ایم کے 22 میں سے 16 ذیلی شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی۔
خدمات (سروسز) کے شعبے نے 4.09 فیصد شرح نمو کے ساتھ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد رہا، جو دہائیوں کی بہترین کارکردگی میں شمار ہوتا ہے۔
پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔
قرضہ بہ نسبت جی ڈی پی (Debt-to-GDP Ratio) کم ہو کر 68.5 فیصد رہ گیا، جو مالی سال 2023 میں 75.2 فیصد تھا۔
جولائی تا مئی اوسط مہنگائی 6.7 (سی پی آئی) فیصد رہی، جبکہ گزشتہ برسوں میں یہ 29.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
جولائی تا اپریل کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 252 ملین ڈالر رہ گیا، جو مالی سال 2022 میں 17.4 ارب ڈالر تھا۔
29 مئی 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 49 فیصد اضافے کے ساتھ 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
جولائی تا مئی ترسیلات زر 9 فیصد اضافے سے 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اپریل 2026 میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ماہانہ ترسیلات زر موصول ہوئیں۔
مالی سال کے اختتام تک ترسیلات زر کے 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
جولائی تا اپریل آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے سے 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
فری لانسرز کی برآمدی آمدن 49 فیصد اضافے سے 959 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقوم 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
نجی شعبے کو قرضوں کا حجم جولائی تا مارچ 934 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 768 ارب روپے تھا۔
زرعی قرضوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 2,162 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد 45 فیصد اضافے سے 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
رواں مالی سال کے دوران 11 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ (IPO) ہوئی، جو گزشتہ دو دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے۔
نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد میں 20.4 فیصد اضافہ ہوا اور 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔
ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
نئی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن ڈیجیٹل طریقے سے کی گئی۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 21 فیصد اضافے سے 722.5 ارب روپے کر دیا گیا۔
حکومت نے ٹیکسیشن، توانائی، نجکاری، پنشن، رائٹ سائزنگ، تجارتی لبرلائزیشن اور ڈیجیٹلائزیشن سمیت متعدد ساختی اصلاحات پر عملدرآمد جاری رکھا۔








