وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کی گلشن فیصل کوآپریٹو سوسائٹی میں زیر تعمیر ہائی رائز بلڈنگ کی تعمیر روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر عمارت غیرقانونی ثابت ہوئی تو اسے مسمار کیا جا سکتا ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو کراچی میں کمرشل زمین کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
کراچی میں ہائی رائز بلڈنگ کی تعمیر روکنے کی استدعا مسترد، غیرقانونی ثابت ہوئی تو مسمار ہو جائے گی، آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کی گلشن فیصل کوآپریٹو سوسائٹی میں زیر تعمیر ہائی رائز بلڈنگ کی تعمیر روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر عمارت غیرقانونی ثابت ہوئی تو اسے مسمار کیا جا سکتا ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو کراچی میں کمرشل زمین کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گلشن فیصل میں دو ہزار گز کا کمرشل پلاٹ رہائشی قرار دے کر ٹائون ہائوسز تعمیر کیے گئے تھے تاہم بعد ازاں ایک بلڈر نے بعض ٹائون ہائوسز خرید کر وہاں ہائی رائز عمارت تعمیر کرنا شروع کر دی جس کی نو منزلیں پہلے ہی تعمیر ہو چکی ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں پہلے ٹائون ہائوسز بنانے کا فیشن تھا، پھر لوگوں نے آٹھ منزلہ عمارتیں بنانا شروع کر دیں جبکہ آج کل آٹھ منزلہ عمارت کو بیس منزلہ بنانے کا فیشن چل رہا ہے۔بلڈر کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رائے طلب کی جائے جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ایس بی سی اے تو کبھی بلڈرز کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عمارت کی تعمیر روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کرنے کی درخواست کی تاہم عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلڈنگ بن رہی ہے تو بننے دیں، اگر غیرقانونی ہوئی تو مسمار ہو جائے گی۔اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے نسلہ ٹاور کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نسلہ ٹاور کی مثال ہمارے سامنے ہے۔عدالت نے وقت کی قلت کے باعث قرار دیا کہ کیس کو کراچی رجسٹری میں سنا جائے گا اور مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔








