مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران ملک میں اوسط صارف قیمت اشاریہ (CPI) پر مبنی مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔
جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران ملک میں اوسط صارف قیمت اشاریہ (CPI) پر مبنی مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کیے گئے اقتصادی سروے 2025-26 میں جاری کیے گئے۔ اقتصادی سروے کے مطابق اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح اچانک بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ اپریل 2025 میں یہ صرف 0.3 فیصد تھی۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ تھا جس کے نتیجے میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں اور مجموعی مہنگائی پر دباؤ پڑا۔شہری علاقوں میں خوراک سے متعلق مہنگائی جولائی تا اپریل 2025-26 کے دوران 3.6 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.1 فیصد تھی تاہم شہری غیر خوراک مہنگائی 8.0 فیصد ریکارڈ کی گئی جو ایک سال قبل 9.1 فیصد تھی۔دیہی علاقوں میں خوراک کی مہنگائی 4.7 فیصد رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں خوراک کی قیمتوں میں 1.5 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔ اسی طرح دیہی غیر خوراک مہنگائی 7.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال 8.3 فیصد تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق بنیادی مہنگائی میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ شہری بنیادی مہنگائی 8.8 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد اور دیہی بنیادی مہنگائی 11.6 فیصد سے کم ہو کر 8.2 فیصد پر آگئی۔اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ تھوک قیمتوں کے اشاریے (WPI) میں جولائی تا اپریل 2025-26 کے دوران 2.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ اضافہ 2.2 فیصد تھا۔اسی طرح (SPI)، جو روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں قلیل مدتی تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے، جولائی تا اپریل 2025-26 کے دوران 4.1 فیصد رہا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 4.9 فیصد تھا۔
حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کی کارکردگی کو محتاط مالیاتی اور مالی پالیسیوں، مارکیٹ نگرانی کے مؤثر نظام، ضروری اشیاء کی بہتر فراہمی، درآمدی ڈیوٹیوں میں مناسب ردوبدل اور شرح مبادلہ میں استحکام کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات نے بیرونی معاشی جھٹکوں کے اثرات کو کم کرنے اور افراطِ زر کے دباؤ کو محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔








