چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے ایسی نوجوان نسل کی ضرورت ہے جو دینی بصیرت، اخلاقی کردار، نظم و ضبط اور جدید فنی مہارتوں سے آراستہ ہو۔آج جامعہ سلفیہ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعہ سلفیہ …
نظم و ضبط، دینی تعلیم اور فنی مہارتوں کا امتزاج ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ رانا مشہوداحمد

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 11 جون (اے پی پی):چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے ایسی نوجوان نسل کی ضرورت ہے جو دینی بصیرت، اخلاقی کردار، نظم و ضبط اور جدید فنی مہارتوں سے آراستہ ہو۔آج جامعہ سلفیہ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعہ سلفیہ جیسے علمی و دینی ادارے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں جہاں سے تیار ہونے والے طلبہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دین، علم اور خدمت انسانیت کے سفیر کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں جبکہ حکومت نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے اور انہیں عملی مہارتیں فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ رانا مشہود احمد خاں نے جامعہ سلفیہ کی علمی، دینی اور تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی درسگاہ ہے جس کے فارغ التحصیل طلبہ دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور جہاں بھی جائیں اس ادارے کی علمی و اخلاقی تربیت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سلفیہ کے طلبہ سے ملاقات ان کے لیے انتہائی خوش آئند تجربہ ثابت ہوئی اور انہیں یہاں جوسکون، سنجیدگی، نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول دیکھنے کو ملا، اس کی مثال دیگر مقامات پر کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط کسی بھی معاشرے، ادارے اور قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتا ہے اور یہی وہ وصف ہے جو قوموں کو زوال سے نکال کر عروج کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بھی قوم کو ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ کا سنہری اصول دیا تھا اور درحقیقت پاکستان کی بنیاد انہی رہنما اصولوں پر رکھی گئی تھی۔
اگر نوجوان نسل ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو پاکستان کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ دینی مدارس اور جدید تعلیمی ادارے دراصل قوم کی دو اہم قوتیں ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم، ٹیکنالوجی اور فنی مہارتوں سے بھی آراستہ کیا جائے تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ سمیت مختلف ممالک میں ایسے تربیت یافتہ اور باصلاحیت افراد کی ضرورت بڑھ رہی ہے جو دینی و اخلاقی اقدار کے ساتھ پیشہ ورانہ مہارتوں کے بھی حامل ہوں اور جامعہ سلفیہ جیسے ادارے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سب سے اہم نوجوانوں کی درست سمت میں رہنمائی اور ان کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں میدان جنگ میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوسی، انتشار اور منفی سرگرمیوں کی طرف دھکیلنے کے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم پاکستان کا باشعور نوجوان ان سازشوں کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ تصور کرتے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کی تعلیم، ہنر مندی، روزگار اور مثبت کردار کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ نوجوانوں کے لیے متعدد فلاحی اور ترقیاتی منصوبے اسی وژن کا عملی اظہار ہیں۔
رانا مشہود احمد خاں نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ جامعہ سلفیہ کے نوجوانوں کو جدید فنی مہارتوں اور روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں گے تاکہ یہ طلبہ دینی تعلیم کے ساتھ کسی نہ کسی ہنر اور پیشہ ورانہ شعبے میں بھی مہارت حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جامعہ سلفیہ کے طلبہ نہ صرف دینی علوم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر پاکستان کی معاشی، سماجی اور فکری ترقی میں بھی فعال کردار ادا کریں گے۔








