راولپنڈی ،بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پنجاب حکومت کے مؤثر اقدامات، راوت میں آگاہی سیمینار کا انعقاد
راولپنڈی ،بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پنجاب حکومت کے مؤثر اقدامات، راوت میں آگاہی سیمینار کا انعقاد

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 12 جون (اے پی پی):دنیا بھر کی طرح 12 جون کو بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے کہ ہر بچے کو محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے، کھیلنے اور نشوونما پانے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔
سال 2026ء کے عالمی دن کا موضوع ”بچوں سے مشقت کو ریڈ کارڈ، بچوں کے لیے منصفانہ مواقع اور بالغوں کے لیے باعزت روزگار” مقرر کیا گیا ہے۔
اس موضوع کا مقصد استحصالی مشقت میں مصروف بچوں کو مزدوری سے نکال کر معیاری تعلیم، سماجی تحفظ، بالغ افراد کے لیے باعزت روزگار اور مناسب ذریعہ معاش کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف لیبر ویلفیئر راولپنڈی کے زیر اہتمام راوت میں واقع ایک اینٹوں کے بھٹے پر آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو بچوں کے حقوق اور کم عمر بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر چائلڈ لیبر کے مضر اثرات سے آگاہ کیا گیا۔
سیمینار کے شرکاء کو بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے تاریخی اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن اور محکمہ محنت و انسانی وسائل پنجاب کی پالیسی کے تحت پنجاب پروہیبیشن آف چائلڈ لیبر ایٹ برک کلنز ایکٹ اور پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ نافذ العمل ہیں۔فورم کو آگاہ کیا گیا کہ بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی چائلڈ ریفرل سسٹم قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے مزدوری سے نکالے گئے بچوں کی نشاندہی، بحالی، تعلیمی اداروں میں داخلے اور فلاحی معاونت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
جنوری 2025ء سے اب تک پنجاب بھر میں مزدوری سے نکالے گئے 2,991 بچوں کو بحالی، تعلیم اور فلاحی معاونت کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جا چکا ہے۔مزید بتایا گیا کہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ”ڈیسنٹ ورک ایٹ برک کلنز” (2025ء تا 2027ء) کے عنوان سے 10 کروڑ روپے مالیت کی ایک اسکیم منظور کی گئی ہے،جس کے تحت 4,348 بچوں کو اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوری سے نکال کر باقاعدہ تعلیمی نظام میں شامل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد بھٹہ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کی رہائشی اور کام کی صورتحال کو بہتر بنانا اور انہیں تعلیمی و فلاحی سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔
اسی طرح پنجاب حکومت نے ”ایلیمینیشن آف چائلڈ لیبر اینڈ ایڈووکیسی یونٹ” (ECL&AU) کے قیام کی منظوری بھی دی ہے جس پر 2026ء تا 2027ء کے دوران 26 کروڑ 24 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ یہ یونٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل لیبر ویلفیئر کے تحت قائم کیا جائے گا اور پنجاب بھر میں چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی ادارہ جاتی نظام کے طور پر کام کرے گا۔
منصوبے کے تحت بچوں سے مشقت کے کیسز کی نشاندہی، ریسکیو، بحالی اور نگرانی کے لیے ایک مربوط آن لائن نظام اور رجسٹری قائم کی جائے گی۔یہ اقدام نجی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ دے گا تاکہ مزدوری سے نکالے گئے بچوں کی تعلیم، بحالی اور ہنر مندی کے مواقع میں مزید بہتری لائی جا سکے



