سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطۂ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی
سپریم جوڈیشل کونسل ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے ضابطۂ اخلاق میں اہم ترامیم منظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):سپریم جوڈیشل کونسل پاکستان نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے ضابطۂ اخلاق (کوڈ آف کنڈکٹ)میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ، یہ فیصلہ 11 جون 2026 کو چیف جسٹس پاکستان اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔
ہفتے کوکونسل سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ منظور شدہ ترامیم کا مقصد عدالتی نظام کو موجودہ آئینی اور ادارہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور ججز کے لیے وضع کردہ اخلاقی اصولوں کو مزید مؤثر اور جامع بنانا ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل کے مطابق سب سے پہلی ترمیم ضابطۂ اخلاق کے عنوان میں کی گئی ۔ اس سے قبل ضابطۂ اخلاق کا عنوان ’’سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کے لیے ضابطۂ اخلاق‘‘ تھاتاہم ترمیم کے بعد اسے ’’وفاقی آئینی عدالت،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کے لیے ضابطۂ اخلاق‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو بھی ضابطۂ اخلاق کے دائرہ کار میں شامل کر لیا گیا ہے۔کونسل نے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل XII میں بھی ترمیم کی ہےجس کا تعلق ججز کی سماجی، ثقافتی، سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت سے ہے۔ سابقہ ضابطے کے تحت اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو کسی بھی سماجی، ثقافتی، سیاسی یا سفارتی تقریب کی صدارت یا شرکت سے مکمل طور پر اجتناب کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم نئی ترمیم کے بعد سماجی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے جبکہ سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت یا صدارت سے اجتناب کی شرط برقرار رکھی گئی ہے البتہ متعلقہ چیف جسٹس کی پیشگی اجازت سے ایسی تقریبات میں شرکت کی جا سکے گی۔اسی طرح آرٹیکل XV کے پیراگراف 2 اور 3 میں بھی نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ترمیم شدہ متن کے مطابق اگر کسی جج کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی غیر معمولی دباؤ، مداخلت یا ایسے حالات کا سامنا ہو جن کے بارے میں ضابطۂ اخلاق کے تحت رپورٹ کرنا ضروری ہو تو وہ فوری طور پر تحریری طور پر متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، چیف جسٹس پاکستان، وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (اگر وہ چیف جسٹس پاکستان نہ ہوں)اور وفاقی آئینی عدالت و سپریم کورٹ کے دو، دو سینئر ترین ججز کو متعلقہ رجسٹرارز کے ذریعے آگاہ کرے گا۔پریس ریلیز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کے جج کے معاملے میں متعلقہ جج اپنی عدالت کے چیف جسٹس اور چار سینئر ترین ججز کو تحریری طور پر اطلاع دے گا۔ مزید برآں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی رپورٹ موصول ہونے کے دو روز کے اندر معاملہ تین رکنی کمیٹی کے سامنے پیش کریں، یہ کمیٹی پندرہ روز کے اندر اپنی سفارشات یا فیصلہ مرتب کرے گی۔اگر معاملہ عدالتی فیصلے کے لیے بھیجا جائے تو اسے منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق جلد از جلد نمٹایا جائے گا۔ترمیم شدہ ضابطے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یا متعلقہ کمیٹی مقررہ مدت کے اندر کارروائی کرنے میں ناکام رہیں تو وہ فورم، یعنی وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ، جسے جج نے ابتدائی طور پر آگاہ کیا ہو، معاملے کو خود سنبھالے گا اور ضروری کارروائی کرے گا۔قانونی ماہرین کے مطابق ان ترامیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد پیدا ہونے والی ادارہ جاتی ضروریات کو ضابطۂ اخلاق میں شامل کیا گیا ہے، ساتھ ہی ججز کو درپیش ممکنہ دباؤ یا مداخلت کی شکایات کے ازالے کے لیے رپورٹنگ اور نگرانی کے نظام کو مزید واضح اور مؤثر بنایا گیا ہے۔








