ایکسپورٹ لیڈ گروتھ سے پوری معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جی ڈی پی گروتھ 3.7 سے 4 فیصد تک پہنچ رہی ہے، آئندہ مالی سال کا بجٹ گزشتہ دو برسوں کی محنت اور جامع اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے، عطاء اللہ تارڑ

عطاء اللہ تارڑ: ایکسپورٹ لیڈ گروتھ سے معیشت مستحکم، جی ڈی پی 3.7 سے 4 فیصد تک پہنچنے کا امکان

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایکسپورٹ لیڈ گروتھ سے پوری معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے، پچھلی حکومت 0.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ چھوڑ کر گئی،

ہماری حکومت میں جی ڈی پی گروتھ 3.7 سے 4 فیصد کی سطح پر پہنچ رہی ہے، آئندہ مالی سال کا بجٹ گزشتہ دو برسوں کی محنت اور جامع اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور معیشت کو پائیدار استحکام کی راہ پر ڈالنا ہے، حکومت نے شفافیت، ایف بی آر اصلاحات کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کی، مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کیا، یہ بجٹ مزدور، کسان، تنخواہ دار طبقے، ایکسپورٹرز اور متوسط طبقے سمیت معاشرے کے تمام طبقات کا بجٹ ہے۔ ہفتہ کو وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مالی گنجائش پیدا ہونے کے بعد حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے وعدے کو عملی جامہ پہنایا جبکہ ریلیف پر مبنی بجٹ کی تیاری کے لیے گزشتہ دو برسوں کے دوران بھرپور محنت اور عرق ریزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا بارہا یہ وعدہ رہا ہے کہ جیسے ہی معاشی گنجائش پیدا ہوگی، عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا اور آئندہ مالی سال کا بجٹ اسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اصلاحاتی کوششوں میں سرِفہرست ایف بی آر اصلاحات ہیں اور ملکی تاریخ میں اس نوعیت کی وسیع اور مؤثر اصلاحات کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایف بی آر کا پورا ڈھانچہ سفارش اور سیاسی مداخلت سے پاک بنایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج وہ کسی افسر کی سفارش کریں کہ اسے کسٹمز کی کسی مخصوص پوسٹ پر تعینات کر دیا جائے تو شام تک متعلقہ افسر کی معطلی کا حکم میری ٹیبل پر ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی کلچر میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اب لوگ سفارش یا اپروچ کے لیے رجوع نہیں کرتے اور یہ کلچرل چینج اُس وقت ممکن ہوا جب اس کا آغاز اعلیٰ سطح سے ہوا اور وزیراعظم نے خود اس عمل کی قیادت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں اربوں روپے کی مالی لیکیج اور بدعنوانی تھی تاہم موجودہ حکومت نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایف بی آر کا فیس لیس سسٹم متعارف کرایا جس کے ذریعے ٹرانسپیرنسی کو فروغ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو اب ضلعی اور تحصیل سطح تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ کے شعبے میں خصوصاً صنعتی سطح پر مالی لیکج بہت زیادہ تھی جس کے تدارک کے لیے شوگر انڈسٹری سے آغاز کیا گیا۔ شوگر انڈسٹری منافع بخش شعبہ ہے، اس لیے اس کا مناسب ٹیکس بوجھ ایک تنخواہ دار طبقے کے فرد پر منتقل نہیں ہونا چاہیے جبکہ ٹیکس وصولیوں میں اس صنعت کا حصہ نسبتاً کم رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مجموعی طور پر ریلیف پر مبنی بیانیے کے پیچھے بھرپور محنت اور طویل حکمت عملی کارفرما رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے معاشی گنجائش پیدا کی جس کے نتیجے میں عوام دوست اقدامات ممکن ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹیکس مقدمات کے نظام میں بھی سنگین خامیاں موجود تھیں، جہاں سفارش کی بنیاد پر وکلا کی بھرتیاں کی جاتی تھیں۔ بعض اوقات فریقین کے وکلا آپس میں ملی بھگت کر کے مقدمات کو چھ سے سات سال تک طول دیتے تھے جس کے باعث ایف بی آر کو واجب الادا ٹیکس منجمد رہتا یا متعلقہ فریق کے پاس ہی پڑا رہتا اور قومی خزانے کو بروقت محصولات موصول نہیں ہوتیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مرحلہ وار اور مسلسل کوششوں کے ذریعے مؤثر نظام، آئی ٹی پر مبنی اصلاحات اور شفافیت کو فروغ دے کر مالی گنجائش پیدا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مختلف طبقات سے جس ریلیف کا وعدہ کیا تھا، موجودہ بجٹ میں اسے عملی شکل دی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹرز کے لیے بھی نمایاں سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بیرونِ ملک ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کا ٹیگ نظر آتا ہے تو یہ باعثِ فخر ہوتا ہے، حکومت کے اقدامات سے پاکستانی مصنوعات خطے میں مزید مسابقتی بنیں گی جس سے برآمدات، زرِمبادلہ اور فارن ایکسچینج ذخائر میں اضافہ ہوگا جبکہ معیشت ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کی جانب بڑھے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مڈل کلاس، بالخصوص لوئر مڈل کلاس کے لیے ’’اپنا گھر‘‘ پروگرام کے تحت بڑی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ سیکٹر صرف تعمیرات تک محدود نہیں بلکہ اس سے متعدد صنعتیں وابستہ ہیں جن میں سیمنٹ، سریا اور دیگر تعمیراتی سامان شامل ہیں جبکہ تقریباً 12 صنعتیں اس شعبے سے منسلک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے 90 ارب روپے کے قرضوں کی سہولت مختص کی ہے جس کی باقاعدہ گنجائش بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کو جائیداد کی خرید و فروخت میں درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس میں بھی ریلیف کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ بجٹ ہر طبقے کے لیے ہے جس میں مزدور، کسان اور تنخواہ دار طبقے سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر ’’پنک ٹیکس‘‘ کے تحت سینیٹری اور ہائیجین پروڈکٹس پر عائد 18 فیصد ٹیکس کو ختم کر کے صفر کر دیا گیا ہے جو ایک بڑا اصلاحاتی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملک کے ڈیفالٹ کرنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں اور شرطیں لگائی جاتی تھیں تاہم یہ سفر آسان نہیں تھا۔ انہوں نے قوم کے صبر و تحمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے بھی اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے تنقید کو فراخ دلی سے برداشت کیا اور معاشی ٹیم نے وزیراعظم کی قیادت میں وہ اقدامات کیے جن کے نتیجے میں ناممکن کو ممکن بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ریلیف پر مبنی ہے اور معیشت کو استحکام کی سمت لے جانے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات کو تسلیم کیا گیا ہے جس کی مثال ڈیووس میں سامنے آنے والے بیانات ہیں جہاں عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کے سٹرکچرل ریفارمز اور میکرو اکنامک استحکام کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف بی آر کے ماڈل کو ورلڈ بینک سمیت عالمی اداروں میں پیش کیا گیا ہے اور اس کی بھرپور پذیرائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیش لیس اکانومی کی جانب اقدامات سے معیشت کے ایک بڑے غیر دستاویزی حصے کو دستاویزی نظام میں لایا گیا ہے جس سے ٹیکس لیکج میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کے دوران ڈیجیٹل والٹس کا استعمال اسی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد شفافیت اور مؤثر تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب ہم ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کی بات کرتے ہیں تو اس کو وسیع معاشی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایکسپورٹر کا ٹرن اوور بڑھتا ہے تو اس کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی صنعت کو وسعت دیتا ہے، نئی انڈسٹریاں قائم کرتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو متنوع بناتا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ترقیاتی ماڈل سے نہ صرف صنعتکار بلکہ فیکٹری ورکرز، مشین آپریٹرز، ڈرائیورز اور دیگر ملازمین بھی مستفید ہوتے ہیں کیونکہ بہتر معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں اجرتوں اور روزگار میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ پر مبنی ترقی کا ماڈل پوری معیشت کو فائدہ پہنچاتا ہے اور یہ ایک جامع معاشی عمل ہے جس میں مختلف طبقات شریک ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے سوشل سیکٹر کے حوالے سے کہا کہ موجودہ ترقیاتی بجٹ میں ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں جن میں اسلام آباد کا جناح میڈیکل کمپلیکس، مظفرآباد کی دانش یونیورسٹی اور گلگت بلتستان، بلوچستان اور سندھ کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات وزیراعظم شہباز شریف کے اس وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد تعلیم کے مواقع کو نچلے طبقات تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکول سسٹم ان بچوں کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں معیاری تعلیم کے مواقع میسر نہیں تھے اور یہ منصوبہ 2011 اور 2012 میں پنجاب میں شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے ہاؤسنگ سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس شعبے میں بھی نمایاں سہولتیں فراہم کی ہیں جس کے تحت نچلے اور متوسط طبقے کے افراد، بشمول مزدور اور ڈرائیور، کو گھر بنانے کے لیے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ محدود آمدنی کے باوجود اپنا رہائشی مکان حاصل کر سکیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں لوئر کلاس، تنخواہ دار اور مزدور طبقے کا بھرپور خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت 0.2 فیصد پر جی ڈی پی گروتھ چھوڑ کر گئی جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں جی ڈی پی گروتھ بڑھ کر 3.7 سے 4 فیصد کی سطح پر پہنچ رہی ہے جو معاشی بحالی کی واضح علامت ہے۔

مزید خبریں