آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ کاروباری استحکام، معاشی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہے، کاروباری طبقہ
آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ کاروباری استحکام، معاشی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہے، کاروباری طبقہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):تاجر برادری نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں چھوٹے تاجروں کو ’’سپر ٹیکس‘‘ سے مستثنیٰ قرار دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے اسے ایک کاروبار دوست اقدام اور حکومت کا ایک مثبت قدم قرار دیا ہے جس سے معیشت کے پہیے کو رواں دواں رکھنے اور ملک بھر میں تجارتی سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ہفتہ کو پی ٹی وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےتاجر برادری کے نمائندوں نے کہا کہ فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے سے چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس کے طریقہ کار کو آسان بنانے، ادائیگیوں اور تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے کے ذریعے بڑا ریلیف ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی اصلاحات چھوٹے کاروباروں پر مالی دباؤ کو کم کرنے اور مارکیٹ کے مجموعی استحکام کو مضبوط بنانے میں مدد کریں گی۔ایک دکاندار نے کہا کہ نیا نظام مالی دباؤ کو کم کرے گا اور روزمرہ کے کاموں کو آسان بنائے گا، جب کہ ایک اور دکاندار نے کہا کہ مقررہ ٹیکس سے معمول کے کاروباری معاملات میں واضح اور مستقل مزاجی آئے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی اصلاحات چھوٹے کاروباروں کو ترقی دینے اور مقامی معیشت میں مزید فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے لیے معاون ٹیکس پالیسیاں کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ کریں گی اور نچلی سطح پر مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو بہتر بنائیں گی۔رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے بھی بجٹ میں چھوٹے تاجروں کو ’’سپر ٹیکس‘‘ سے مستثنیٰ قرار دینے کے فیصلے کو سراہا اور اسے کاروبار دوست اور ریلیف پر مبنی قدم قرار دیا جس سے معاشی سرگرمیوں کو تحریک دینے اور تجارتی شعبے کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے سے چھوٹے دکانداروں کے لیے تعمیل کو آسان بنایا جائے گا، مالی دباؤ میں کمی آئے گی اور ٹیکس وصولی میں شفافیت میں بہتری آئے گی اور کاروباری ماحول میں کے استحکام میں مدد ملے گی۔








