سپارک کا این سی آر سی کے اشتراک سے عالمی یوم انسدادِ چائلڈ لیبر، بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور

سپارک کا این سی آر سی کے اشتراک سے عالمی یوم انسدادِ چائلڈ لیبر، بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک نے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (این سی آر سی)کے اشتراک سے عالمی یوم انسدادِ چائلڈ لیبر 2026 منایا، اس سال کا عالمی موضوع “ چائلڈ لیبر کے لیے ریڈ کارڈ: بچوں کے لیے منصفانہ کھیل، بڑوں کے لیے معقول کام ” تھا جس کے تحت پاکستان میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے اجتماعی اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال (پی سی سی آر) کی کنوینر ڈاکٹر نگہت شکیل خان نے کہا کہ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں اور ان کا تحفظ پائیدار قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کاکس بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی، پالیسی سازی اور مؤثر نگرانی کومزیدمضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبرکےخاتمے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی،نجی شعبے اور مقامی کمیونٹیز سمیت تمام فریقین کومشترکہ کردار ادا کرنا ہوگاجبکہ غربت، معیاری تعلیم تک محدود رسائی اور کمزور سماجی تحفظ جیسے بنیادی اسباب کو بھی دور کرنا ضروری ہے۔رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو معاشی مجبوریوں کے باعث مزدوری پر مجبور کرنےکے بجائے محفوظ ماحول اور معیاری تعلیم فراہم کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے مؤثر خاتمے کے لیے سماجی تحفظ کےپروگراموں میں توسیع، سکولوں میں داخلوں اور حاضری کی شرح بہتر بنانے اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں بچوں کو محرومی کے چکر سے نکالنے کے لیے مستقل سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا کہ قومی پالیسی سازی میں بچوں کے حقوق کو ترجیح دینا اور قانون سازی کے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر دراصل سماجی و معاشی ناہمواریوں اور گورننس کے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط قانونی فریم ورک کے ساتھ ساتھ مؤثر نفاذ، نگرانی کے بہتر نظام، تعلیم اور سماجی تحفظ میں سرمایہ کاری اورپارلیمان، حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے ہی ہر بچے کے لیے بہتر مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

سپارک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آسیہ عارف نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف پورے معاشرے کو اجتماعی طور پر "ریڈ کارڈ” دکھانا ہوگا۔انہوں نے سپلائی چین، ہوٹلوں، آٹو ورکشاپس اور بھٹہ خشت کی صنعت میں بچوں سے مشقت کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط نفاذی نظام، سماجی تحفظ میں توسیع اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) اور آئین کے آرٹیکل 16 کے مطابق معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی فلاح و بہبود اور ترقی پر مستقل سرمایہ کاری ہی ایک منصفانہ اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

سپارک کےپروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ اس سال کا موضوع اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب تک بالغ افراد کو باعزت روزگار اور مناسب سماجی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتااس وقت تک بہت سے بچے استحصال اور جبری مشقت کے خطرے سے دوچار رہیں گے جو ان کے بچپن اور مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔این سی آر سی کی رکن نادیہ بی بی نے تمام شراکت داروں کی جانب سے اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیاجبکہ سینٹر آف لیبر ریسرچ کی صوبیہ احمد نے جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق پائیدار ترقیاتی ہدف 8.7ایس ڈی جی پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت اجاگر کی۔تقریب میں SPARC کے چلڈرن کلبز کے بچوں نے بھی شرکت کی اور چائلڈ لیبر میں مصروف بچوں کو درپیش مشکلات بیان کیں۔

انہوں نے حکومت اورمتعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھا جائے اور انہیں باعزت اور محفوظ بچپن کا حق فراہم کیا جائے۔بچوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر انہیں تعلیم اور ترقی کےمساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کے ذمہ دار اور فعال شہری بن کر ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک پر بوجھ نہیں بلکہ اس کی تعمیر و ترقی میں شریک بننا چاہتے ہیں۔