قومی اسمبلی میں قانون سازوں کابجٹ پر بحث کے دوران تنخواہوں میں اضافہ، ادارہ جاتی اصلاحات اور ریلیف اقدامات کا مطالبہ

قومی اسمبلی میں قانون سازوں نے بجٹ پر بحث کے دوران تنخواہوں میں اضافہ، ادارہ جاتی اصلاحات اور ریلیف اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی ترقی میں زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، اس شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے، نقد امداد کی بجائے مستحق افراد کو چھوٹے کاروباری یونٹس کے ذریعے روزگار پر لگایا جائے۔

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں قانون سازوں نے بجٹ پر بحث کے دوران تنخواہوں میں اضافہ، ادارہ جاتی اصلاحات اور ریلیف اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی ترقی میں زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، اس شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے، نقد امداد کی بجائے مستحق افراد کو چھوٹے کاروباری یونٹس کے ذریعے روزگار پر لگایا جائے۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال27۔ 2026 کے وفاقی بجٹ پر عام بحث کے دوران قانون سازوں نے تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، ساختہ اصلاحات اور عوام کے لیے مضبوط ریلیف اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے زراعت کی بہتری، مہنگائی میں کمی کیلئے اقدامات، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافے، صوبائی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے قومی بحرانوں کے دوران ہمیشہ ریاست کی حمایت کی ہے اور ہمیشہ استحکام اور اتحاد کو ترجیح دی ہے۔ محمود اچکزئی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پی پی پی کی قیادت، بشمول ذوالفقار علی بھٹو، سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ذکر کرنے کی تعریف کی اور قومی ہم آہنگی میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کیلئے اعلان کردہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی امداد ناکافی ہے، معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے زرعی شعبے کو مسلسل کنارے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے گندم کی قیمتوں کی پالیسیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے کسان معاشی طور پر کمزور اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن میجر (ر) طاہر اقبال نے کہا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں تجویز کردہ 7 فیصد اضافہ ناکافی ہے اور اسے کم از کم 15 فیصد تک بڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار افراد اور پنشنرز مہنگائی سے شدید متاثر ہیں اور انہیں زیادہ ریلیف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سیمنٹ اور سٹیل کی طلب بڑھانے اور مجموعی معاشی ترقی کے لیے پراپرٹی ٹیکس کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے چھوٹی صنعتوں اور کاروباروں کے لیے زیادہ معاونت پر زور دیا تاکہ بنیادی سطح پر ترقی کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کیش ٹرانسفر سسٹم کو فنڈز کو لوگوں کو چھوٹے کاروباری یونٹس قائم کرنے میں مدد دینے کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ وہ طویل المدتی خود انحصاری حاصل کر سکیں۔ انہوں نے تاخیر کا شکار انفراسٹرکچر پراجیکٹس پر بھی تشویش ظاہر کی اور نامکمل کاموں اور مبینہ بدعنوانی کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا۔ سینئر سیاسی رہنما علی محمد خان نے عوامی خواہشات کی عکاسی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انصاف اور عوامی فلاح و بہبود کے مطابق اصلاحات کا مطالبہ کیا ۔

پی پی پی کی سیدہ شہلا رضا نے ایف بی آر کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ۔ انہوں نے پٹرولیم لیویز پر انحصار کو آئی ایم ایف کا دبائو قرار دیا، جو صارفین پر اضافی بوجھ کا باعث ہے ۔ انہوں نے ریونیو اکٹھا کرنے کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی تجویز دی اور زراعت، مینوفیکچرنگ، سروسز اور انرجی سمیت کلیدی معاشی اشاریوں کی کارکردگی پر تشویش ظاہر کی ۔ اپوزیشن رکن رانا عاطف نے حکومت کی مالی کارکردگی اور قرضوں کے استعمال اور ترسیلات زر پر انحصار پر سوال اٹھائے اور کہاکہ مضبوط معیشتیں ترسیلات زر کی بجائے مقامی پیداوار اور برآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ بجٹ میں بعض شعبہ جات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن رکن چوہدری نذیر جٹ نے گندم کی سرکاری قیمت چار ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاسکو یہ گندم خود خریدے اور گنے کے کاشتکار کو شوگر ملوں کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر نہ کی جائے، کاشتکاروں کو سولر پر سبسڈی دی جائے، زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی صفر کرنے کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے رکن شہریار خان مہر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف یہاں تنقید کرتی ہے لیکن ان کی تنقید کبھی حقائق کے قریب نہیں رہی، اس ایوان کو چلنے دیا جائے۔ نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جائے، دانش سکولوں کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود سکولوں کو اپ گریڈ ، معیاری تعلیم اور اچھے اساتذہ چاہئیں۔ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک یہ سہولت ہر شہر اور گائوں تک نہیں پہنچ جاتی۔انہوں نے قومی اے آئی پالیسی تشکیل دینے پر بھی زور دیا ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی صدف احسان نے کہا کہ ہمارے علاقے میں بچیوں کیلئے سکول اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا انتظام کیا جائے۔ ٹیوب ویل چلانے کیلئے سولرلائزیشن کی سہولت دی جائے تاکہ ہماری زمینیں سیراب ہو سکیں۔

اپوزیشن رکن ریاض فتیانہ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ پاکستان کے ہر ضلع میں مقامی مصنوعات کی پیداوار کے حوالے سے تحقیقی مراکز قائم کئے جائیں، گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی ختم کی جائے۔ اپوزیشن رکن شیرعلی ارباب نے کہا کہ ملک کے قرضوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کو بڑا نقصان ہوا ہے۔