پی آر بی سی،سہ فریقی تجارت کو کراچی بحری روٹ سے منسلک کرنے کا اختیار دیتا ہے

پاکستان رومانیہ بزنس کونسل (پی آر بی سی)پاکستان، شام اور رومانیہ کے درمیان سہ فریقی تجارت میں اضافے کے اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔ پی آر بی سی نے شام کے سفیر ڈاکٹر رمیز الراعی سے ملاقات کی تاکہ ٹیکسٹائل، زراعت، دواسازی اور تعمیرات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):پاکستان رومانیہ بزنس کونسل (پی آر بی سی)پاکستان، شام اور رومانیہ کے درمیان سہ فریقی تجارت میں اضافے کے اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔ پی آر بی سی نے شام کے سفیر ڈاکٹر رمیز الراعی سے ملاقات کی تاکہ ٹیکسٹائل، زراعت، دواسازی اور تعمیرات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

کونسل کے سی او او عاطف فاروقی اور مشیر حسنین حیدر نے کونسل کے رہنمائوں کے ہمراہ تینوں ممالک کے برآمد کنندگان کے لیے تجارتی بہاؤ، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور مارکیٹ تک رسائی کو وسیع کرنے کے لیے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کی ۔انہوں نے کراچی-کانسٹانٹا ایم او یو پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ سمندری راستہ مال برداری کے وقت کو کم کرتا اور رومانیہ کے راستے پاکستانی سامان کے لیے یورپ کا دروازہ کھولتا ہے،یہ یورپ کا سٹریٹجک گیٹ وے ہے۔عاطف فاروقی نے کہاکراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ آف کانسٹانٹا کے درمیان ایم او یو ایک تبدیلی کا سنگ میل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سفیر ڈاکٹر ڈیناسٹوینیسکو کی قیادت اور وژن پر ان کو سراہتے ہیں۔ یہ معاہدہ شام کے ساتھ سہ فریقی تجارت کو بڑھانے اور پورے خطے میں نئے مواقع کھولنے کی ایک طاقتور مثال قائم کرے گا۔ پی آر بی سی سفارتی ذرائع کو حقیقی تجارتی نمو میں تبدیل کرنے کے لیے ڈرائیونگ پارٹنرشپ، پالیسی ڈائیلاگ اور سیکٹر ورکنگ گروپس کا عمل جاری رکھے گا۔ کونسل کاروباری وفود، فالو اپ مشنز اور ہدف بنائے گئے اقدامات کی حمایت بھی کرتی ہے جو پاکستان، شام اور رومانیہ میں قابل قدر برآمد کنندگان کےلئے مواقع کو فروغ دیں گے۔