قومی اسمبلی میں بجٹ پرعام بحث جاری، اراکین کا صحت اورتعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ کی ضرورت پرزور، نوجوانوں اورصنعتوں کی ترقی کوخصوصی ترجیح دینے کی تجاویز

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پرعام بحث پیر کو بھی جاری رہی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے صحت اور تعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں اورصنعتوں کی ترقی کو خصوصی ترجیح دینے کی تجاویز پیش کیں

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پرعام بحث پیر کو بھی جاری رہی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے صحت اور تعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں اورصنعتوں کی ترقی کو خصوصی ترجیح دینے کی تجاویز پیش کیں، اراکین قومی اسمبلی نے پاکستان کی کوششوں سے ایران اورامریکا کے درمیان امن معاہدے کو پاکستان کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا اوراس ضمن میں وزیراعظم محمدشہبازشریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزارت خارجہ کی انتھک کوششوں کو سراہا۔

پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن )کے انجم عقیل خان نے کہاکہ جوہری دھماکے، 10مئی اور امن معاہدے جیسی کامیابیاں مسلم لیگ (ن )کی حکومتوں کا طرہ امتیاز ہے، موجودہ مشکل حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے، افغانستان کے ساتھ ہم حالت جنگ میں ہیں، بھارت کوہم نے شکست فاش دی ہے، ضرورت اس امرکی ہے کہ اب ملک کومعاشی لحاظ سے مضبوط بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں خواتین، سرکاری ملازمین، صنعت اور نوجوانوں کیلئے تعمیری اقدامات کئے گئے ہیں جس سے ملک ترقی کی راہ پرگامزن ہو گا۔

انہوں نے بجٹ کی تیاری میں وزیر خزانہ، وزیر منصوبہ بندی اور وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا۔ انجم عقیل خان نے مشاورتی عمل میں عوامی نمائندوں سمیت تمام شراکت داروں کی شمولیت پر زور دیا اور کہا کہ اس معاملے میں متعلقہ وزارتوں کو اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن کے لطیف کھوسہ نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ پاکستان بنانے والا اورپاکستان کوآئین دینے والا بھی وکیل تھا، وکلا پر بطور کمیونٹی الزام عائد کرنا درست نہیں۔ انہوں نے بجٹ پر تنقید کی اور کہاکہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ 70 فیصد آبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے مگر بجٹ میں نوجوانوں کی فلاح وبہبود اور بہتری کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ 3 کروڑ بچے سکولوں سے باہرہیں، لوگوں کے پاس علاج کیلئے پیسے نہیں ہیں، تعلیم اور صحت کیلئے فنڈز میں اضافہ ناگزیر ہے۔

نور عالم خان نے کہاکہ پاکستان کے عوام ایران کی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہیں، ہم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ٹیم کو بھی مبارکباد دیتے ہیں جنہوں نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے بچایا۔ انہوں نے بجٹ پر تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ بجٹ میں عوام کیلئے سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں، مالی خسارہ 3.6فیصد ہے، 4 فیصد گروتھ ناممکن ہے، مہنگائی کے اندازے بھی درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، ورسک ڈیم کے سارے ٹربائن خراب ہیں مگر بجٹ میں اس کیلئے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں کمی کا مطالبہ بھی کیا۔ حفیظ الدین نے کہاکہ امریکا ایران امن معاہدہ خوش آئند ہے، قومی بجٹ کو سیاسی خواہشات کی وش لسٹ نہیں بنانا چاہئے، اس طرز عمل سے عوام کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے، حقیقت پسندانہ تخمینوں پر مبنی بجٹ وقت کی ضرورت ہے، بلواسطہ ٹیکسوں میں کمی ہونی چاہئے۔

انہوں نے سرکاری اداروں کے خسارے میں کمی کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ شہرام خان ترکئی نے کہاکہ چھ افراد پرمشتمل گھرانہ اپنی فیملی کو ایک وقت کا کھانا نہیں دے سکتا، دنیا میں روزانہ تین ڈالرسے زیادہ کمانے والے غربت کے لکیر سے اوپرہوتے ہیں، ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اورقرضوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ کاروبار خسارے میں چل رہے ہیں، توانائی کی قیمتیں بلند ہیں۔ انہوں نے تمباکو پر ٹیکس اور پٹرولیم لیوی میں کمی کامطالبہ بھی کیا۔ انجینئر حامدحسین نے کہاکہ کرم میں قیام امن کویقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور ہسپتالوں میں سہولیات میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مشرق وسطی کے ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعدادمیں اضافہ ہواہے، ڈی پورٹ ہونے والوں کوان کے پاسپورٹ واپس کئے جائیں، زیارات کیلئے جانے والے زائرین کوتحفظ فراہم کیا جائے۔ پی پی پی کے نبیل گبول نے کہاکہ دودھ اور ضروری اشیا ءپر جنرل سیلز ٹیکس نہیں ہونا چاہئے، ایران امریکا معاہدہ میں پاکستان کی کوششیں ٹیم ورک کانتیجہ ہے۔ وزیراعظم اورفیلڈمارشل نے عالمی جنگ رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس پر وہ مبارکبادکے مستحق ہیں۔ نبیل گبول نے کہاکہ کراچی میں فراہمی آب کے حوالہ سے کے فور منصوبہ جلد مکمل کیا جائے۔

محمداسلم گھمن نے کہاکہ مہنگائی و بے روزگاری میں کمی کیلئے اقدامات اور غریبوں کیلئے بجٹ میں وسائل کی فراہمی ضروری ہے، مصنوعی ذہانت کے فروغ کیلئے تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ہونی چاہئے۔ وزارت آئی ٹی کیلئے فنڈز جاری کئے جائیں، تعلیم کیلئے جی ڈی پی کے تناسب سے 4 فیصد فنڈز مختص کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کومشکلات کا سامنا ہے، کپاس سمیت فصلوں کی پیداوارمیں کمی آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن )کے شیخ آفتاب احمدنے کہاکہ امریکا ایران امن معاہدہ کے ذریعہ جنگ کو رکوانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس پر وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر داخلہ، ڈپٹی وزیراعظم سمیت کردار ادا کرنے والے تمام شراکت دارمبارکبادکے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اورپاکستان معاشی ترقی کے محاذ پربھی کامیابیاں سمیٹے گا، موجودہ حکومت نے مشکل حالات میں متوازن بجٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کومشکل حالات کاسامنا ہے، ڈیزل اورمداخل کی قیمتیں زیادہ ہیں جبکہ پیداوارکی قیمت بہت کم ہے جس سے کسانوں کا نقصان ہو رہا ہے، بین الاقوامی حالات کی وجہ سے زرعی مصنوعات کی برآمدات بند ہونے سے بھی کسان متاثرہوئے ہیں، ہمیں امید ہے کہ امن معاہدے سے ہماری معاشی مشکلات کم ہوں گی۔

انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم سے کم 10 فیصد اضافہ کرنا چاہئے، اسمبلی کے ملازمین کیلئے خصوصی اعزازیہ دیا جائے۔ وزیراعظم اوران کے رفقا ء کی نیک نیتی سے پاکستان ڈیفالٹ سے بچ کرترقی کی راہ پرگامزن ہو چکا ہے۔ پی پی پی کے فتح اللہ خان نے کہاکہ معرکہ حق میں شاندارکامیابی کے تناظرمیں دفاعی بجٹ میں اضافہ خوش آئند ہے،بجلی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کئے جائے،زراعت اورکسانوں کی ترقی کیلئے فنڈزمیں اضافہ کیا جائے، ڈی آئی خان میں جدید ترین ہسپتال قائم کیا جائے۔