عالمی کرکٹ میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر ٹیسٹ اور ٹی20 کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ایک ہی پیمانے پر جانچنا مناسب نہیں رہا،محسن نقوی
عالمی کرکٹ میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر ٹیسٹ اور ٹی20 کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ایک ہی پیمانے پر جانچنا مناسب نہیں رہا،محسن نقوی

مزید خبریں
لاہور۔15جون (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیئرمین سید محسن نقوی کی قیادت میں کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹس کے نظام میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد ڈھانچہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق مختلف فارمیٹس کے کھلاڑیوں کو ان کی مہارت اور ذمہ داریوں کے مطابق مواقع اور مراعات فراہم کرنا ہے۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کے ہمراہ عاقب جاوید سمیت دیگر عہدیداران نے پی سی ہوٹل لا ہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی کرکٹ میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر ٹیسٹ اور ٹی20 کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ایک ہی پیمانے پر جانچنا اب مناسب نہیں رہا۔ اسی لیے ایک ہی نظام سب کے لیے کی پالیسی ترک کرتے ہوئے ایسا فریم ورک تیار کیا گیا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو تسلیم کرتا ہے۔نئے نظام کے تحت ہر سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے سے منسلک کیا جائے گا، جس میں ریڈ بال اور وائٹ بال کرکٹ کے لیے الگ راستے موجود ہوں گے۔ کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس کی ذمہ داریوں، توقعات اور مراعات کا تعین کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیتے ہوئے اس سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے اضافی مراعات اور تحفظات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ وائٹ بال اور ٹی20 اسپیشلسٹ کرکٹرز کے لیے بھی واضح اور باعزت راستہ فراہم کیا گیا ہے۔
پرانے نظام میں موجود اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز کی جگہ اب پانچ فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے جائیں گے۔ ٹریک اے بی میں ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ کے نمایاں کھلاڑی شامل ہوں گے، جبکہ ٹریک اے ریڈ بال اسپیشلسٹس کے لیے مخصوص ہوگا۔ ٹریک بی سی میں ون ڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل کے ماہر کھلاڑی شامل ہوں گے، جبکہ ٹریک ڈی مختصر فارمیٹ اور فرنچائز کرکٹ کے اسپیشلسٹس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔پی سی بی کے مطابق ہر کھلاڑی کا موازنہ صرف اپنے متعلقہ ٹریک کے کھلاڑیوں سے کیا جائے گا اور ہر ٹریک میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی یا تنزلی کے مواقع موجود ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز کو پہلی بار دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال لیگز میں شرکت کی اجازت دی جائے گی تاکہ وہ سخت مقابلہ جاتی ماحول میں مزید تجربہ حاصل کر سکیں۔
تاہم ان کھلاڑیوں کے لیے ٹی20 فرنچائز لیگز میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے تحت کرکٹرز کو سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے میڈیکل اور فٹنس ٹیسٹ، ڈومیسٹک کرکٹ میں فعال شرکت اور کارکردگی کے جامع جائزے کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔بورڈ کے مطابق یہ فریم ورک سینٹرل کانٹریکٹس کے نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور جوابدہی پر مبنی بنائے گا، جبکہ ہر فارمیٹ کے کھلاڑیوں کو ان کی مہارت اور وابستگی کے مطابق ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے گا۔ نیا نظام 2026 کے کانٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا اور موجودہ نظام کی جگہ لے گا۔








