وفاقی آئینی عدالت میں ای او بی آئی کرپشن کیس کی سماعت ، جائیدادوں کی خریداری اور قیمتوں کے تنازع پر قابلِ عمل حل تجویز کرنے کی ہدایت
وفاقی آئینی عدالت میں ای او بی آئی کرپشن کیس کی سماعت ، جائیدادوں کی خریداری اور قیمتوں کے تنازع پر قابلِ عمل حل تجویز کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں ای او بی آئی کرپشن کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ فریقین کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک اس مقدمے کے حل کے لیے قابلِ عمل تجویز پیش کریں تاکہ طویل عرصے سے زیرِ التوا معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ای او بی آئی کیس کے گناہ و ثواب میں ہم سب شریک ہیں اور سوال اٹھایا کہ 2013 سے زیرِ سماعت اس مقدمے کا آخر حل کیا ہے۔
سماعت کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کیس سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے نتیجے میں شروع ہوا تھا اور اس میں ای او بی آئی کی جانب سے 18 جائیدادیں مبینہ طور پر اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم پر ان جائیدادوں کی مارکیٹ ویلیو کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔بیرسٹر علی ظفر کے مطابق مال روڈ لاہور کا ایک پلاٹ 790 ملین روپے میں خریدا گیا جبکہ ماہرین کے مطابق اس کی اصل مالیت 540 ملین روپے تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اندازوں کے مطابق اسی پلاٹ کی قیمت بڑھ کر تقریباً 2300 ملین روپے تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ای او بی آئی کی جانب سے بعض جائیدادیں واپس رکھنے اور بعض کے بدلے رقم کی واپسی کا مؤقف اپنایا جا رہا ہے، جبکہ ان کے مؤکل پر یہ دباؤ ہے کہ وہ پلاٹ بھی واپس کرے اور مبینہ طور پر اضافی وصول شدہ رقم بھی ادا کرے۔سابق چیئرمین ای او بی آئی ظفر گوندل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے وکیل موجود نہیں ہیں، اس لیے ان کا مؤقف سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں کسی قسم کی جانبداری موجود نہیں ہے اور تمام فریقین کو سنا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کیس کو اس کے تمام پہلوؤں کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے اور کوئی حتمی فیصلہ فریقین کے مؤقف سنے بغیر نہیں ہوگا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس وقت یہ معاملہ شروع ہوا اس وقت جائیدادوں کی قیمتیں مختلف تھیں، جبکہ وقت کے ساتھ مارکیٹ ویلیو میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تک اس تنازع کے حل کے لیے قابلِ عمل تجویز پیش کریں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی عدالتی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔








