قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری، اراکین کے آئی ٹی، اے آئی، زراعت اور بجلی و توانائی کی قیمتوں میں کمی کیلئے جامع اقدامات کے مطالبے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری، اراکین کے آئی ٹی، اے آئی، زراعت اور بجلی و توانائی کی قیمتوں میں کمی کیلئے جامع اقدامات کے مطالبے

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث بدھ کو بھی جاری رہی، مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے بجٹ کے مختلف پہلوئوں پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تجاویز اور سفارشات پیش کیں، اراکین نے آئی ٹی، اے آئی، زراعت اور بجلی و توانائی کی قیمتوں میں کمی کیلئے جامع اقدامات کے مطالبات کئے، مالی خسارے پر قابو پانے کیلئے ترجیحات کا ازسر نو تعین کرنے کا مطالبہ کیا ، اراکین نے دودھ اورضروری اشیاء پر ٹیکسوں کی شرح کم کرنے اورفارمولاملک پرٹیکس پر نظرثانی کی تجاویز بھی دیں۔ بدھ کوقومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی پی پی کی شازیہ مری نے بجٹ، خارجہ پالیسی، گلگت بلتستان، صوبائی حقوق، مہنگائی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بلوچستان، نوجوانوں اور قومی یکجہتی سے متعلق امورپر گفتگو کی۔ انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں اور ملکی قیادت کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا۔

شازیہ مری نے مہنگائی اور غربت میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں عوامی مشکلات بڑھ رہی ہیں، حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرے۔ انہوں نے صوبائی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ کے تحفظ پر زور دیا اوربی ایس پی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے غریب عوام کیلئے اہم قرار دیا۔ شازیہ مری نے فلسطین کے عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کی اوربلوچستان کی ترقی، وسائل پر مقامی حق اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم کے نام سے منسوب منصوبوں اور ایئرپورٹ کا نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور نوجوانوں کیلئے بہتر تعلیم، روزگار اور مثبت مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شازیہ مری نے کہاکہ 138ارب ڈالرکی بیرونی ذمہ داریوں کے تناظر میں جدید ٹیکنالوجی،آئیڈیاز اوراختراع پرمبنی معاشی اقدامات وقت کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن کے رکن بیرسٹرگوہرخان نے کہاکہ جمہوریت ،ایوان ،آزاد عدلیہ کیلئے ہم غیر مشروط تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں، ہمارے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں، خیرسگالی کے جذبہ کے تحت اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی کوختم کیا جائے تاکہ وہ اپنے عوام کی نمائندگی کر سکے۔ انہوں نے بجٹ پرتنقید کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ میں کاروبار، نوجوانوں اورمختلف طبقات کیلئے ریلیف اقدامات شامل نہیں ہے۔

کسٹمز سیلز ٹیکس میں آزادانہ سکروٹنی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے یہ فیصلہ واپس لیا جائے، فیس لیس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جو غیرآئینی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بونیر پسماندہ علاقہ ہے، کراچی میں بونیرکی ایک بچی انتقال کرگئی ان کی میت جب واپس لائی جارہی تھی تو میت لانے والی فیملی کو میرپور خاص میں لوٹ لیا گیا، گزشتہ سال اگست میں بونیر میں سیلاب سے 41 لوگ جاں بحق ہوگئے تھے جن میں سے صرف 20 امدادی چیک جاری ہوئے تھے، باقی چیک جلد جاری کئے جائیں، بونیرایکسپریس وے کوپی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے۔ رعنا انصار نے کہا کہ ایران امریکا امن معاہدے پر پوری دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے جس پروزیراعظم محمدشہبازشریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ اوروزارت خارجہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بجٹ میں خواتین کے استحصال کوروکنے اوران کی ترقی کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی، پی ایس ڈی پی میں حیدرآباد سکھرموٹروے کیلئے فنڈز کی فراہمی خوش آئند ہے، کاروکاری کے واقعات روکنے کیلئے فنڈ قائم کیا جائے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، مالی خسارے پر قابو پانے کیلئے ترجیحات کا از سر نو تعین کیا جائے، دودھ اورضروری اشیاء پر ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے اورفارمولا ملک پرٹیکس پر نظرثانی کی جائے۔ مسلم لیگ ن کے راجہ خرم شہزادنے کہاکہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وجہ سے پاکستان دنیا میں امن کاسفیر بنا ہے، آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ متوازن ہے اور حکومت نے مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی دارالحکومت میں تعلیم کے دو دو نظام موجودہیں، اسلام آبادسے ملحقہ اور دیہی علاقوں پرانے سکولوں کو بحال کرنا اور اساتذہ کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے، تمام سرکاری سکولوں میں اے آئی اور آئی ٹی کی جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی ہونی چاہئے۔

اسلام آباد میں پانی سے متعلق مسائل میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور مستقبل میں یہ سنگین صورتحال اختیارکر سکتی ہے، وفاقی دارالحکومت کو پانی کی فراہمی کیلئے مزید چھوٹے ڈیموں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کوماڈل شہربنانے کیلئے دیہی علاقوں میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچہ اورگاربیج کلیکشن کے نظام کوجدید بنایا جائے۔دارالحکومت کے دوبڑے سرکاری ہسپتال میں ملک کے دوردراز حصوں سے لوگ علاج کیلئے آرہے ہیں جس سے مقامی لوگوں کیلئے طبی سہولیات کی فراہمی محدود ہورہی ہے، دارالحکومت میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر ضروری ہے۔ اپوزیشن کے امجد علی خان نے کہاکہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی ہم نے معیشت کو مقروض بنایا ہے، معاشی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی ممکن نہیں ہے، سامراج نے اسی بنیاد پر نیوکولونیل نظام قائم کردیا ہے، اس نظام میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ قرضہ دینے والے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 18کھرب روپے کے بجٹ میں 16کھرب پنشن، بی آئی ایس پی اورسبسڈیز پرلگارہے ہیں جبکہ انسانی ترقی کیلئے صرف 10فیصد رکھاگیاہے۔ ملک میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،7 فیصد نوجوان بے روزگارہیں جن کی تعداد میں ہرسال 10 لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت اور تعلیم کوترجیح دیئے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کی ترقی کیلئے دلیرانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔ ترقیاتی بجٹ پرتوجہ دیئے بغیر ہم معاشی ترقی نہیں کر سکتے، مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنا کی مدت میں اضافہ کیا جائے۔ پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی نازبلوچ نے کہاکہ ملک کوموسمیاتی تبدیلیوں کابڑاچیلنج درپیش ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے زراعت اورغذائی سلامتی کوبھی خطرہ ہے،کلائمٹ سپورٹ لیوی کیلئے آئندہ مالی سال کے دوران 51 ارب روپے کاہدف مقرر کیا گیا ہے ،اس لیوی کے تحت اب تک موصول فنڈزکے بارے میں تمام ترتفصیلات فراہم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ آئی ٹی کیلئے بجٹ میں مختص فنڈز کی شرح کم ہے،نوجوانوں کوآئی ٹی کی تعلیم دینے کیلئے فنڈز میں اضافہ ناگزیر ہے۔نازبلوچ نے کہاکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے غریب لوگوں کومشکلات کاسامنا ہے،ہائی ٹیرف کے باوجود گردشی قرضہ میں اضافہ ہورہاہے، لوگ لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔انہوں نے بجٹ کے دوران پارلیمنٹ ہائوس میں کام کرنے والے ملازمین کیلئے خصوصی اعزازیہ دینے کی بھی سفارش کی۔