عوام دوست بجٹ سے صنعت کا پہیہ تیز ہوگا، برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا، وزیر اعظم شہباز شریف کی مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان پارلیمان سے گفتگو
عوام دوست بجٹ سے صنعت کا پہیہ تیز ہوگا، برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا، وزیر اعظم شہباز شریف کی مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان پارلیمان سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام دوست بجٹ سے صنعت کا پہیہ تیز ہوگا، برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا، تمام توجہ آبی ذخائر، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات پر مرکوز ہے، خطے میں امن اور صورتحال معمول پر آنے کے مثبت اثرات عوام کو منتقل کریں گے، یہ ممکن نہیں کہ عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان پارلیمان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں بدھ کو یہاں ان سے ملاقات کی ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے خواتین ارکان پارلیمنٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے جاری بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
نے کہا کہ حکومت نے جس قدر ممکن ہو سکا بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ، بجٹ میں ملک میں خواتین کو خودمختار بنانے اور ان کی قومی دھارے میں شمولیت میں اضافے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی خواتین کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے با اختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اللہ کے فضل و کرم سے خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹے اور امن کے قیام کی کوششیں بر آئیں، دوست ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے امن کے قیام کی کوششوں میں بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے آغاز سے ہی حکومت پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور پوری ٹیم امن کے قیام کی کوششوں میں خلوص نیت کے ساتھ سرگرم عمل رہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے اور عالمی امن کے دیر پا قیام سے ہی پاکستان اور دیگر ممالک کی معاشی ترقی کا خواب پورا ہوگا، حکومت نے گزشتہ مہینوں میں عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے جس قدر ممکن ہو سکا بچانے کی بھرپور کوشش کی، اللہ کے فضل و کرم سے خطے کے دیگر ممالک کی طرح نہ تو ملک میں کوئی بحران آیا اور نہ ہی ایندھن کیلئے لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی ٹیم کی بہتر منصوبہ بندی کی بدولت نہ صرف عوام کو پریشانی سے جس قد ممکن ہوا بچایا گیا بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون سے متوسط و معاشی طور پر کمزور طبقوں کیلئے تاریخی پیکیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران میں سب سے پہلے قربانی کا آغاز کابینہ اور سرکاری اداروں سے کیا، یہ ممکن نہیں کہ اس ملک کے عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے 128 ارب روپے کی سبسڈی اور بڑے پیمانے پر کفایت شعاری مہم سے عوام کی پریشانیوں کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی، حالیہ حالات میں ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا جس پر صوبائی حکومتوں کے تہہ دل سے مشکور ہیں، اس تمام صورتحال کے دوران ملکی معیشت کے استحکام میں عوامی تعاون کا بہت بڑا کردار رہا جس پر پاکستان کے عوام کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل معاشی صورتحال میں عوام دوست بجٹ پیش کیا جس سے صنعت کا پہیہ تیز ہوگا اور برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کے بجٹ میں ہماری توجہ ملکی مفادات بالخصوص آبی ذخائر میں اضافہ، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات پر مرکوز ہے تاکہ پاکستانی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کریں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں امن اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد مثبت معاشی اثرات عوام کو منتقل کئے جائیں گے، یہ تمام تر کاوشیں ٹیم پاکستان کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے اور انشاء اللہ یہ ٹیم پاکستان کو دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرے گی۔ خواتین ارکان پارلیمنٹ نے عالمی و خطے میں امن کے قیام کی کاوشوں پر وزیراعظم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وزیراعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کو بجٹ میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں یکساں تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات شامل کرنے پر بھی بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ اراکین پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو متعلقہ حلقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے جاری منصوبوں اور بجٹ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔شرکا نے ملک بھر میں تعلیم، صحت، نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع، صنعت و پیداوار، مواصلات، غذائی تحفظ اور دیگر شعبوں میں اقدامات کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔
ملاقات میں ارکان پارلیمنٹ سیدہ نوشین افتخار، بیگم تہمینہ دولتانہ، شائستہ خان، طاہرہ اورنگزیب، شائستہ پرویز، منیبہ اقبال، نزہت صادق، مسرت آصف خواجہ، رومینہ خورشید عالم، زیب جعفر، کرن عمران ڈار، زہرہ ودود فاطمی، آسیہ ناز تنولی، صبا صادق، فرح ناز اکبر، شہناز سلیم ملک، زینب محمود بلوچ، کرن حیدر، اختر بی بی، غزالہ انجم، مس شاہین، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، تمکین اختر نیازی، سائرہ تاررڑ، ہما اختر چغتائی، ماہ جبین خان عباسی، گلناز شہزادی، شمائلہ رانا، شازیہ فرید، سیدہ آمنہ بتول، رابعہ نسیم فاروقی، ارم حامد حمید اور مس نیلم شریک تھیں۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیر برائے امور عامہ یونٹ رانا مبشر اقبال، وزراء مملکت شزرا منصب علی خان کھرل، وجیہہ قمر اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی شریک تھے۔








