حکومت بلوچستان نے 11نئے منصوبوں کااعلان کیاہے جس کامقصد صوبائی خزانہ پر اضافی بوجھ کم کرنے،زرعی شعبے کی بہتری،آن لائن کاروبار اور معدنی وسائل کافروغ اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار میں بہتری لاناہے
آن لائن کاروبار،معدنی وسائل وترقیاتی منصوبوں کیلئے بہتری کیلئے نئے مالی سال کے بجٹ میں 11نئے منصوبوں کااعلان

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 17 جون (اے پی پی):حکومت بلوچستان نے 11نئے منصوبوں کااعلان کیاہے جس کامقصد صوبائی خزانہ پر اضافی بوجھ کم کرنے،زرعی شعبے کی بہتری،آن لائن کاروبار اور معدنی وسائل کافروغ اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار میں بہتری لاناہے ۔بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت بلوچستان نے صوبے کے نئے مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں 11منصوبے تجویز کئے ہیں جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بولان انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے صوبے میں تمام سرکاری املاک،حادثات، قدرتی آفات ،صحت اور دیگر منصوبوں کا بیمہ کیاجائیگا ، اس اقدام سے کسی بھی قسم کے مالی نقصان کا ازالہ صوبائی خزانہ پر اضافہ بوجھ ڈالے بغیر ممکن بنایاجاسکے گا،اس کے علاوہ زرعی شعبے کی بہتری ،سستی توانائی کی فراہمی کیلئے تیوب ویلز کی سولرائزیشن کے منصوبے کیلئے 3.8ارب روپے مختص کئے گئے ،بینک آف بلوچستان کے قیام کیلئے10ارب روپے ،بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کیلئے 3ارب روپے مختص کئے گئے ہیں
جس میں 2بلین روپے کمپنی واپس کریگی ،ڈویژنل ہیڈکوارٹر کے ماسٹر پلان کیلئے 3ارب روپے ،ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور ڈیزائن کی بہتری کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا قیام، ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن کاروبار کے فروغ کیلئے ای کامرس سینٹرز کا قیام، معدنی وسائل کے فروغ اور سرمایہ کاری کے مواقع برڑھانے کیلئے 490ملین روپے ،ثقافت اور آثار قدیمہ کے فروغ کیلئے85ملین روپے ،عوامی شکایات کے ازالے کیلئے مربوط نظام جو کہ تحصیل سطح سے لیکر صوبائی سطح تک ہوں، بلوچستان میں ریونیو کی دستی طریقے سے وصولی کے باعث عوام کو بھی غیرضروری مشکلات کاسامنا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کو ریونیو میں نقصان برداشت کرناپڑتاتھا اب تمام سرکاری محصولات اور ٹیکسوں کی وصولی بلوچستان ای پے کے ذریعے لازمی قراردیا جارہاہے ،اس نظام کے تحت صارفین ملک کے کسی بھی حصے سے بیٹھ کر اپنے ٹیکس اور فیسیں آن لائن جمع کراسکیں گے جبکہ وصول شدہ رقم فوری طورپر براہ راست سرکاری اکائونٹ میں منتقل ہوجائیگا۔








