محکمہ تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ کو125ارب روپے سے بڑھا کر144ارب روپے کردیاگیاہے ،صوبائی وزیر خزانہ

صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہاہے کہ محکمہ تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ کو125ارب روپے سے بڑھا کر144ارب روپے کردیاگیاہے ،پرائمری کومڈل اور مڈل کو ہائی سکول اپ گریڈیشن کیلئے8ارب روپے

کوئٹہ۔ 17 جون (اے پی پی):صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہاہے کہ محکمہ تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ کو125ارب روپے سے بڑھا کر144ارب روپے کردیاگیاہے ،پرائمری کومڈل اور مڈل کو ہائی سکول اپ گریڈیشن کیلئے8ارب روپے ،کلسٹربجٹ کو2.5ارب روپے سے بڑھا کر2.9ارب روپے کردیا گیا ہے،آئندہ مالی سال کے دوران3ہزار نئی آسامیاں تخلیق ہوں گی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو بجٹ تقریر کرتے ہوئے کیا۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ سرفہر ست ہے۔ حکومتِ بلوچستان پورے صوبے میں معیاری تعلیم کی فراہمی کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔اس سلسلے میں ہر سال صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے لیے مختص ہوتاہے۔ جس کا مقصد بلوچستان میں سب کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔حکومتِ بلوچستان عوام کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔حکومتِ بلوچستان نے محکمہ تعلیم بشمول ہایئر ایجوکیشن کا مجموعی بجٹ اثاثہ جا ت کے بغیر 125 بلین سے بڑھا کر144 بلین مختص کر کے 15%فیصد کا اضافہ کیا ہے جس میں115 بلین سکول ایجوکیشن کے لیے مختص ہیں۔ آئندہ مالی سال میں شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے مختلف اضلاع کے سکولز کے لیے ون ٹائم گرانٹس جاری کیے ہیں جن میں بلیدہ فائونڈیشن سکول کے لئے10 ملین اور تعلیم فائونڈیشن کے لئے 20ملین مختص ہیں۔

پرائمری سکول سے مڈل سکول اور مڈل سے ہائی سکول کی اپگریڈیشن کے لئے 8 بلین مختص کئے گئے ہیں۔محکمہ تعلیم کے ملازمین کی مالی معاونت کے لیے ڈیتھ کمپنسیشن گرانٹ کو 30ملین سے بڑھا کر 100ملین کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ کلسٹر بجٹ کو2.5 بلین سے بڑھا کر2.9 بلین کر دیا گیا ہے اور اس کے پُر اثراستعمال کے لئے ایک نئی شفاف پالیسی متعارف کرائی گئی ہے ۔سکول ایجوکیشن کے لئے شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کی مد میں 14ملین مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ تعلیم سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے لئے3,000 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں12 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں115 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جدید دور میں اعلیٰ تعلیم کے بغیر سماجی اور معاشی ترقی ممکن نہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی ہم اپنے نوجوانوں کو قابل ،ہنر منداور خود مختار بنا سکتے ہیں۔اسی مقصد کے تحت صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے حصول کو عملی طور پہ یقینی بنا رہی ہے۔رواں مالی سال2025-26 میں محکمہ کالجز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 24 بلین مختص کیے گئے تھے۔جو آئندہ مالی سال2026-27 میں 28بلین ہوگا۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیزکی موجودہ گرانٹ8 بلین کو برقراررکھا گیاہے مزید برآں (KPIs)کے حصول سے مشروط 2بلین کارکردگی پر مبنی فنڈنگ تجویز کی گئی ہے۔روا ں مالی سال میں کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کو مختلف سکالرشپس اور لیپ ٹاپس بھی فراہم کیے گئے۔

آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ کالجز کیلئے سکالرشپ کی مد میں 105.8ملین مختص کئے گئے ہیں جس میں 54ملین شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کے ذریعے بلوچستان کے ہونہار طلبہ وطالبات کو فراہم کئے جائیں گے۔آئندہ مالی سال میں نسٹ یونیورسٹی کی مالی مشکلات حل کرنے کے لئے 200ملین رکھے گئے ہیں ۔ محکمہ کالجز کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 1 بلین گرانٹ مختص کی گئی ہے۔ بسسزکی فراہمی کے لئے1 بلین مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ کالجز کے ترقیاتی مد میں2.3 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں 28.7بلین مختص کیے گئے ہیں۔