پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے اور وہاں کے شہری مسلسل جان و مال کے نقصانات، بے گھری، بھوک اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران جنگ بندی کے باوجود سنگین، پاکستان کا اقوام متحدہ میں فوری اقدامات کا مطالبہ
اقوام متحدہ ۔19جون (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے اور وہاں کے شہری مسلسل جان و مال کے نقصانات، بے گھری، بھوک اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور کونسل کو اس پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (2025) کی منظوری کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جبکہ انسانی بحران میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔
ان کے مطابق غزہ کے 90 فیصد سے زائد باشندے بے گھر ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہوں کو امدادی سامان، تجارتی اشیا اور طبی انخلا کے لیے فوری طور پر مکمل طور پر کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹیں اور تاخیر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے تاکہ مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد، فوری تعمیر نو اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی راہ ہموار ہو سکے۔پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد بعض مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، تاہم غزہ میں حالات اب بھی انتہائی خراب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد بھی تقریباً ایک ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ امدادی سرگرمیوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک مقام بنا ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق غزہ میں کوئی بھی ہسپتال مکمل طور پر فعال نہیں جبکہ تقریباً 11 لاکھ بچوں کو روزانہ صاف پانی کی فراہمی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ فلیچر نے زور دیا کہ صرف ہتھیار خاموش کرانا کافی نہیں بلکہ غزہ کے عوام کا وقار اور بنیادی انسانی حقوق بھی بحال کرنا ضروری ہے۔









