پی ایچ ایف، پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے جامع قومی ہاکی ڈویلپمنٹ روڈ میپ کا اعلان

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ملک میں ہاکی کے معیار کو بہتر بنانے،خواتین کھلاڑیوں کو آگے لانے،گراس روٹ سطح پر کھیل کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے ایک جامع قومی ہاکی ڈویلپمنٹ روڈ میپ کا اعلان کر دیا ہے

لاہور۔20جون (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ملک میں ہاکی کے معیار کو بہتر بنانے،خواتین کھلاڑیوں کو آگے لانے،گراس روٹ سطح پر کھیل کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے ایک جامع قومی ہاکی ڈویلپمنٹ روڈ میپ کا اعلان کر دیا ہے۔پی ایچ ایف کے مطابق نئی اصلاحاتی مہم کا سب سے اہم پہلو خواتین کی ہاکی کو اعلی سطح پر لانا ہے۔فیڈریشن نے خواتین کھلاڑیوں کیلئے پہلی مرتبہ منظم ترقیاتی راستے بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اب تمام قومی سطح کے مقابلوں میں انڈر16 اور انڈر18 کی سطح پر مردوں اور خواتین دونوں کی کیٹیگریز شامل ہوں گی،جسے پاکستان ہاکی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔فیڈریشن نے انڈر18 گرلز نیشنل ہاکی چیمپئن شپ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا ہے،جو مستقبل کی قومی ٹیم اور بین الاقوامی مقابلوں کیلئے ٹیلنٹ کی شناخت اور انتخاب کا بنیادی ذریعہ بنے گی۔جونیئر کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تجربہ فراہم کرنے کیلئے پاکستان انڈر21 جونیئر مینز ہاکی ٹیم،پاکستان انڈر 18 بوائز ہاکی ٹیم اور پاکستان انڈر18 گرلز ہاکی ٹیم کو عمان میں ہونے والے بین الاقوامی ترقیاتی مقابلوں میں شرکت کیلئے بھیجا جائے گا۔یہ مقابلے رواں سال جولائی میں منعقد ہوں گے جن میں فائیو اے سائیڈ اور یوتھ لیگ فارمیٹس شامل ہیں۔پی ایچ ایف نے ملک بھر کے اسکولوں اور گراس روٹ سطح پر ہاکی کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے بھی ایک وسیع پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پروگرام کے تحت انفراسٹرکچر کی بہتری، کوچنگ کی سہولیات میں اضافہ اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے نظام کو فعال بنایا جائے گا تاکہ ملک کے تمام علاقوں کے لڑکوں اور لڑکیوں کو یکساں مواقع فراہم کئے جا سکیں۔فیڈریشن نے سینئر قومی ہاکی ٹیم کیلئے میچ بہ میچ کارکردگی کے جائزے کا جدید نظام متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔یہ نظام ایف آئی ایچ پرو لیگ سے شروع ہو کر ہاکی ورلڈ کپ،ایشیئن گیمز اور دیگر عالمی مقابلوں تک جاری رہے گا۔کارکردگی کا جائزہ فوری اور لائیو بنیادوں پر لیا جائے گا جبکہ ٹیم سلیکشن اور حکمت عملی کا تعین میچ ڈیٹا،کوچز کی تکنیکی رپورٹس،آزاد مبصرین کی آرا اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے گا۔پی ایچ ایف کے مطابق قومی ہاکی پروگراموں کو جدید پرفارمنس،ٹیکنالوجی، اینالیٹکس سسٹمز اور خصوصی سپورٹ یونٹس سے لیس کیا جائے گا تاکہ کھلاڑیوں کی تکنیکی،جسمانی اور حکمت عملی سے متعلق کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔فیڈریشن نے انتظامی ڈھانچے،کوچنگ اسٹاف اور دیگر تمام متعلقہ شعبوں کی کارکردگی جانچنے کیلئے سہ ماہی جائزہ نظام نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کیلئے پی ایچ ایف کے صدر اور سینئر قیادت کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔روڈ میپ کے آخری مرحلے میں عالمی معیار کے فٹنس اور ہائی پرفارمنس کوچ کی تقرری کیلئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔مجوزہ ماہر سینیئر قومی ٹیم کیلئے جدید سائنسی فٹنس فریم ورک تیار کرے گا تاکہ پاکستانی ہاکی کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ یہ جامع اصلاحاتی ایجنڈا ہاکی کی بحالی، شفافیت،احتساب اور طویل المدتی کامیابی کے عزم کا مظہر ہے۔

مزید خبریں