ممتاز تجزیہ کاروں اور مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیادت امریکہ اور ایران کشیدگی کے درمیان امن کو فروغ دینے میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھری ہے، جس نے عالمی سطح پر ملک کے مثبت قومی تشخص کو اجاگر کیا ہے
امریکہ۔ایران کشیدگی میں پاکستان امن کے داعی کے طور پر ابھرا،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سفارتی اقدامات قابلِ تحسین، تجزیہ کار

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جون (اے پی پی):ممتاز تجزیہ کاروں اور مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیادت امریکہ اور ایران کشیدگی کے درمیان امن کو فروغ دینے میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھری ہے، جس نے عالمی سطح پر ملک کے مثبت قومی تشخص کو اجاگر کیا ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سفارتی اقدامات قابل تحسین ہیں جن کا مقصد علاقائی استحکام اور تنازعہ کے پرامن حل کو یقینی بنانا ہے۔ زیورخ، سوئٹزرلینڈ میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران ممتاز تجزیہ کاروں اور مبصرین نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور بات چیت کو فروغ دینے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔معروف دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) بابر علاؤالدین نے کہا کہ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں کامیابی کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کیا جب او آئی سی، اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور جی 20 جیسے بڑے بین الاقوامی فورمز کی قیادت کی توقع تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل سفارتی مصروفیات علاقائی اور عالمی امن کے لیے اس کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔سیاسی تجزیہ کار نجم ولی خان نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کی کوششوں نے ملک کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی قیادت کی فعال سفارت کاری نے تعمیری بات چیت اور کشیدگی کو کم کرنے کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات کے مثبت اور دیرپا نتائج برآمد ہوں گے۔میزبان اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر منور حسین نے کہا کہ پاکستان کا کردار سفارتی پختگی اور تزویراتی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کی کوششیں اقتصادی استحکام میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں جس سے نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ وسیع تر عالمی برادری کو بھی فائدہ ہو گا۔بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) مسعود احمد خان نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے اس کے بین الاقوامی امیج میں اضافہ ہوا ہے اور علاقائی معاملات میں ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر اس کی ساکھ کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی مصروفیات جاری رہنے سے کشیدگی کو کم کرنے اور وسیع تر امن اقدامات کے لیے جگہ پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔تجزیہ کار ماریہ سلطان نے کہا کہ دنیا مذاکرات اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششوں میں پیشرفت تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں انسانی حالات میں بہتری اور طویل مدتی امن کے امکانات کو تقویت دینے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔تجزیہ کار حارث نواز اور زاہد محمود نے کہا کہ حالیہ پیش رفت نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ خوبیوں کو اجاگر کیا ہے، جن کے مربوط سفارتی رابطے اور ایرانی قیادت کے ساتھ روابط نے بات چیت اور کشیدگی میں کمی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک پیچیدہ علاقائی صورتحال سے نمٹنے میں پاکستان کی کوششیں سٹریٹجک وژن اور سفارتی پختگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کو عالمی سطح پر ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی فعال سفارت کاری نے اس کی بین الاقوامی حیثیت کو بڑھایا ہے اور خطے میں پاکستان کے بااثر سفارتی اور سکیورٹی کے اقدامات کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کا امیج مضبوط ہوا ہے۔








