قومی اسمبلی نے وزارت توانائی (بجلی وپیٹرولیم ڈویژن) کے 661 ارب 26 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے چھ مطالبات زر کی منظوری دیدی

قومی اسمبلی نے وزارت توانائی (بجلی وپیٹرولیم ڈویژن) کے 661 ارب 26 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے چھ مطالبات زر کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔21جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے وزارت توانائی (بجلی وپیٹرولیم ڈویژن)کے 661 ارب 26 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے چھ مطالبات زر کی منظوری دیدی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی کٹوتی کی 116 تحاریک کو مسترد کر دیا گیا جبکہ وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ نقصان والے فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کو ٹرانسفارمر کی سطح پر لیجانے کیلئے 50 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ لایا جا رہا ہے۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں وزارت توانائی کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحاریک پربحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے کٹوتی کی تحریکوں پر زیادہ تر جو تنقید سامنے آئی ہے اس کا تعلق صارفین کے ساتھ رویئے کا ہے، جو شکایت کے نظام اور داد رسی کے حوالے سے تھی تاہم انفراسٹرکچر یا بجلی کے نظام کے حوالے سے کوئی زیادہ شکایات نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 25۔ 2024 میں وزارت پاور ڈویژن پر 1287 ارب روپے کا بوجھ تھا جسے گزشتہ سال کم کر کے 893 ارب روپے جبکہ اس سال 700 ارب روپے تک لائے ہیں، ہم نے ایک ٹیم بن کر ٹیکس دہندگان کے 587 ارب روپے کا بوجھ کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت پر تنقید کرنے والے خیبرپختونخوا میں اپنی 15 سالہ کارکردگی بھی بتائیں، ہماری حکومت نے سرکلرڈیٹ کو 780 ارب روپے تک کم کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ اگر ان اعداد و شمار کو غلط ثابت کر دیں تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے 591 ارب روپے کے لائن لاسز میں کمی کے لئے اقدامات کئے اور 2 سال میں یہ لائن لاسز 335 ارب روپے پر لائے ہیں۔ آئی پی پیز سے بات چیت کر کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی ہے، ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کا مالک کون سیٹھ ہے اس طرح ہم نے عوام کے 3500 ارب روپے واپس لئے۔

انہوں نے کہا کہ جینکوز میں جہاں ملازمین کو 7 ارب روپے تنخواہ کی مد میں خیرات کے طور پر دیئے جا رہے تھے ہم نے ان کو جابز سیکورٹی دی اور انہیں کام پر لگایا، اب وہ رزق حلال کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں 18 ہزار میگاواٹ بجلی آئی پی پیز سے خریدی جا رہی تھی جس کو ہم کم کر کے 8 ہزار پر لائے، اس وقت پاکستان میں پیدا ہونے والی 76 فیصد بجلی مقامی وسائل سے پیدا ہو رہی ہے، ہمارے دور میں امریکہ۔ ایران جنگ کے دوران بھی چند روز کیلئے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس شعبہ میں اصلاحات کیں، مسابقتی مواقع پیدا کئے، بیٹری سٹوریج کی طرف گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نجکاری کے حق میں ہیں ہم نے ان نقصان دینے والی تقسیم کار کمپنیوں کو منافع بخش بنایا۔ ان کے دور میں فیسکو، لیسکو، میپکو، آئیسکو سمیت کئی کمپنیاں نقصان میں تھیں ہم نے لیسکو کا نقصان 80 ارب روپے سے کم کر کے 18 ارب، میپکو کا خسارہ 38 ارب روپے سے کم کر کے 2 ارب روپے پر لائے، انہوں نے کہا کہ ہم ان اداروں کے حق میں ہیں کیونکہ ہم نے بڑی محنت سے ان کا نقصان کم کیا ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ یہ لوگ پھر آ کر ان کمپنیوں کے نقصانات میں اضافہ کریں اس لئے ان کی نجکاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں ساڑھے تیرہ ہزار فیڈرز میں 3 ہزار 500 فیڈرز پر اکنامک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے کیونکہ اگر یہ لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے تو نقصانات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت رائج نظام کے تحت جہاں لاسز ہوتے ہیں وہاں پورے فیڈر کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے تاہم اب 50 ارب روپے کی لاگت سے ایسا نظام لا رہے ہیں کہ اب ملک میں موجود ایک لاکھ 80 ہزار ٹرانسفارمرز میں سے جہاں لاسز ہوں گے ٹرانسفارمر سے بجلی کاٹی جائے گی۔ ہم لوڈ شیڈنگ کے نظام کو فیڈر سے ٹرانسفارمر کی سطح پر لے جا رہے ہیں یہ وزیراعظم کا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی کی فیس نہیں لی جا رہی۔ قبل ازیں وزارت توانائی کی کٹوتی کی تحاریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاہدخٹک نے کہا کہ ایس این جی پی ایل گیس کے ذخائر والے اضلاع میں گیس فراہمی کے منصوبوں پرعمل درآمدسے متعلق سوال اٹھایا اور کہا کہ منصوبوں میں تاخیر سے 7 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انیقہ مہدی نے کہا کہ بجلی اورگیس کی لوڈشیڈنگ سے لوگوں کومشکلات کاسامنا ہے، لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے زیادہ بلز آ رہے ہیں، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کیلئے جامع اقدامات کئے جائیں ، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ پرعمل درآمدکیا جائے۔

عادل بازئی نے کہاکہ توانائی کے شعبہ میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گی ، بلوچستان کو متبادل توانائی کے ساتھ ساتھ نئے ڈیموں کی ضرورت ہے۔ عاطف خان نے کہا کہ بجلی اورلوڈشیڈنگ کے مسائل بڑھ رہے ہیں، آئی پی پیز کوبجلی بنائے بغیر اربوں روپے کی ادائیگیاں ہو رہی ہیں، فی یونٹ قیمت 70 روپے تک پہنچ چکی ہے، ڈسکوز کو صوبائی بجٹ سے بھی فنڈز فراہم ہو رہے ہیں مگر اپنے جمع کردہ فنڈز سے بھی ہمیں میٹریل فراہم نہیں کیا جا رہا، ایران۔ امریکا معاہدے سے ملک کوحاصل ہونے والے فوائد کی تفصیلات فراہم کی جائیں ۔ شاہدہ بیگم نے کہا کہ موجودہ پالیسیوں سے بجلی کے نرخ، لوڈشیڈنگ اور گردشی قرضوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، ہمیں پالیسی میں تبدیلی اور اصلاحات پرعمل درآمدکرنا ہو گا۔ شہرام ترکئی نے کہاکہ پیسکو ٹرانسفارمر مرمت کے پیسے عوام سے وصول کررہی ہے، پیسکومیں سینکڑوں آسامیاں خالی ہے۔

انور تاج نے کہاکہ خیبر پختونخوا7 ہزارمیگاواٹ نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہاہے مگر صوبے میں 20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ لوڈشیڈنگ حد سے زیادہ ہے، لائن لاسز اور کنڈا کلچرکا خاتمہ ہونا چاہئے، اس میں پیسکو کا اپنا عملہ بھی شامل ہے۔ آصف خان نے کہاکہ بجلی کے حوالہ سے ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکے ہیں، وزیر توانائی سے درخواست ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے، ریکوری کیلئے یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، اس کے باوجود ہمارے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے، خصوصاً پٹرولیم ڈویژن اس پر توجہ دے۔ شدید گرمی کے باوجود گیس کی فراہمی انتہائی ناکافی ہے، دن میں تین اوقات میں گیس فراہم کرنے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا ۔

خواجہ شیرازنے کہاکہ بجلی شعبہ کے گردشی قرضہ میں اضافہ ہواہے، اسی طرح گیس کاگردشی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے، قرضے کے اس ٹریپ سے نکلنے کیلئے جامع اقدامات کئے جائیں ۔ علی محمدخان نے کہاکہ ہاتھیان فیڈر اور لوند خوڑ گرڈ منصوبہ تاخیرکا شکار ہے۔ عالیہ کامران نے کہا کہ ملکی ترقی کا انحصار سستی اور پائیدار توانائی پر ہے۔ پیٹرولیم لیوی کوکیپ کیا جائے، پیٹرول پمپوں پر مصنوعات کے معیار کی جانچ ضروری ہے، تیل ریفائنریوں کو جدید بنایا جائے۔

بشیر خان نے کہا کہ بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار پر توجہ دی جائے، لائن لاسزکوکم کیا جائے، بجلی کے بوسیدہ لائنوں کو تبدیل کرنا ضروری ہے، زیر تعمیر ڈیموں کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے۔ انجینئر حمید حسین نے کہاکہ باقاعدگی سے بل دینے کے باوجودان کے حلقہ میں بجلی نہیں ہے، ٹرانسفارمرز سیاسی بنیادوں پر تقسیم کئے گئے ہیں اس کا نوٹس لیا جائے۔ ریاض فتیانہ نے کہاکہ حلقہ کے 200دیہات کوبجلی فراہمی کی منظوری دی گئی تھی مگریہ منصوبہ ابھی مکمل نہیں ہوا،60 دیہات کو بجلی کی فراہمی ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔

مزید خبریں