قاہرہ میں آر۔فورکے وزرائے خارجہ کا اجلاس،اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم،خطے کے امن واستحکام کیلئے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی،اعلامیہ
قاہرہ میں آر۔فورکے وزرائے خارجہ کا اجلاس،اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم،خطے کے امن واستحکام کیلئے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی،اعلامیہ

مزید خبریں
قاہرہ۔21جون (اے پی پی):مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے چوتھے مشاورتی اجلاس میں بالخصوص 18 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس اہم پیش رفت کو کشیدگی میں کمی لانے اور اس تنازع کے خاتمے کی جانب ایک مثبت اور تعمیری قدم قرار دیا، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہا تھا۔ اس تنازع کے اثرات توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں، عالمی سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے تھے۔
اتوار کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے چوتھے مشاورتی اجلاس کے بعد اپنے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ یہ اجلاس علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کا ایک بہترین موقع تھا۔اجلاس مصر کی دعوت پر 21 جون کو قاہرہ میں منعقد ہوا جس میں مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے چاروں ممالک کے مابین مسلسل مشاورت اور ہم آہنگی کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔حالیہ علاقائی پیش رفت پر وزرائے خارجہ نے خصوصاً 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے مابین ’’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘‘(ایم او یو) پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے اس اہم پیش رفت کو کشیدگی میں کمی اور ایک ایسے تنازعے کے خاتمے کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا جس سے علاقائی سلامتی و استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی بحری راستوں، عالمی سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق تھے۔اس تناظر میں وزرائے خارجہ نے ان علاقائی اور بین الاقوامی کرداروں کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے اس مفاہمت کو ممکن بنانے میں مدد کی اور متعلقہ فریقین کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر دیانتداری سے عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے اس تاریخی نتیجے تک پہنچنے میں پاکستان کی تعمیری کوششوں کی تعریف کی اور ساتھ ہی مفاہمت کی یادداشت پر مذاکرات کو کامیاب انجام تک پہنچانے کے لیے قطر کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کو بھی سراہا۔ وزرائے خارجہ نے اس اہم معاملے پر پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مسلسل اور قریبی ہم آہنگی کی بھی تعریف کی۔اس مثبت پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو تیزی اور کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا جس کا مقصد بقیہ مسائل کا ایک پائیدار، قابلِ تصدیق اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کرنا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی کوششوں میں خطے کے ممالک کے تحفظات بالخصوص خلیجی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ لیونٹ (levant) کے خطے کی سلامتی اور استحکام کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط اور طویل مدتی علاقائی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔وزرائے خارجہ نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام لانے کے لیے گروپ کی کوششوں کی رہنمائی کے طور پر خطے کے مستقبل کے حوالے سے اپنے وژن کو شیئر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت کا اعادہ کرتے ہوئے وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین خطے میں ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کا محور ہے اور ایک مستحکم و محفوظ علاقائی نظام کی تشکیل کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس سلسلے میں مقبوضہ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم (القدس) میں انسانی اور سیاسی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی۔وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق بشمول ان کے حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کے لیے اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا جو کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق خطے میں ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کے لیے ناگزیر بنیاد ہے۔







