نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی عرب،ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے مشترکہ ملاقات
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی عرب،ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے مشترکہ ملاقات

مزید خبریں
قاہرہ ۔21جون (اے پی پی):پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر محمداسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود،ترکیہ کے وزیرخارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیرخارجہ ڈاکٹر بدرعبدالعاطی کے ہمراہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے مشترکہ ملاقات کی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے صدر السیسی کو نیک خواہشات اور سلام پہنچایا اور مصر کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ، برادرانہ اور کثیرالجہتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے پاکستان اور مصر کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت کو سراہا، جس نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے صدر السیسی کی وزیراعظم محمدشہبازشریف کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرنے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی قیادت کے دوروں کا تبادلہ باہمی سہولت کے مطابق جلد ہوگا۔ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال ، خطے میں امن، استحکام، مذاکرات اور سفارتی روابط کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مصر کے صدر السیسی نے صدر آصف علی زرداری اور پاکستان کی قیادت کی جانب سے دی گئی نیک خواہشات کا جواب خیرسگالی کے جذبات کے ساتھ دیا۔ انہوں نے خطے میں مذاکرات کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور سفارتی روابط کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا اور وزیراعظم، نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی علاقائی امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیر مقدم کیا ۔
صدر السیسی نے امید ظاہر کی کہ جاری کوششیں اور مذاکرات کا اگلا مرحلہ خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ اس موقع پر پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان R4 فریم ورک کے تحت ہونے والی مشاورت پر بھی توجہ مرکوز رہی۔
رہنماؤں نے مشترکہ مفادات کے امور پر منظم مذاکرات، تذویراتی مشاورت اور پالیسی رابطہ کاری کے لیے R4 کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے مسلسل رابطوں اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور علاقائی خوشحالی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیاتاکہ تمام ممالک اور ان کے عوام کے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔ یہ ملاقات انتہائی گرمجوشی اور دوستانہ ماحول میں ہوئی جو شریک ممالک کے درمیان قریبی دوستی اور باہمی احترام کے مضبوط رشتوں کی عکاسی کرتی ہے۔








