قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس، مالیاتی بل 2027کے حوالہ سے متعدد سفارشات پیش

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس، مالیاتی بل 2027کے حوالہ سے متعدد سفارشات پیش

اسلام آباد۔21جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے مالیاتی بل 2027کے حوالہ سے متعدد سفارشات پیش کی ہیں جن میں بڑے ٹیکس اصلاحاتی اقدامات کا مرحلہ وار نفاذ، ادارہ جاتی نگرانی اور احتساب کو مضبوط بنانا، صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور موثر عملدرآمد کے لیے مضبوط نظام وضع کرنا شامل ہے۔ چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہوابازی کے شعبے کے لیے متوازن اور تمام ایئرلائنز کے ساتھ یکساں سلوک پر مبنی پالیسی نہ صرف منصفانہ مسابقت کو فروغ دے گی بلکہ ایک مضبوط، پائیدار اور مثر فضائی صنعت کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس اتوارکویہاں چیئرمین کمیٹی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں فنانس بل 2026 کی شق وار جانچ پڑتال کا سلسلہ مکمل کیا گیا۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متعدد اہم ترامیم کی منظوری دی، جن کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کا تحفظ، احتساب کو مضبوط بنانا اور ٹیکس قوانین کے مثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔ کمیٹی نے ایک اہم قانونی تحفظ کی منظوری دی، جس کے تحت کسی تیسرے فریق کی ملکیت کو منجمد کرنے کا حکم اس وقت تک جاری نہیں کیا جا سکے گا جب تک اسپیشل جج تحریری وجوہات ریکارڈ نہ کرے اور متاثرہ شخص کو موقف پیش کرنے کا موقع نہ دے تاہم اگر اثاثے ضائع ہونے کا فوری خدشہ ہو تو استثنا حاصل ہوگا ۔ کمیٹی نے انڈیپنڈنٹ کیس اسکروٹنی کمیٹی کو تکنیکی نوعیت کے معاملات میں چارٹرڈ اکائونٹنٹ کو بطور غیر ووٹنگ رکن شامل کرنے کی اجازت دینے، قانونی مدت کے تعین میں منظوری کے عرصے کو خارج کرنے اور قانون کو مزید واضح اور سادہ بنانے کے لیے غیر ضروری ذیلی شقوں کو حذف کرنے کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں پاکستان کی فضائی صنعت کو درپیش مالی اور آپریشنل مشکلات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

ارکان نے نشاندہی کی کہ اگرچہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے لیے مجوزہ مالی مراعات قومی ایئرلائن کی معاونت کے لیے ہیں تاہم دیگر ملکی ایئرلائنز کو بھی اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت یکم جولائی 2027 سے تمام اہل ایئرلائنز کو یکساں مالی مراعات اور ٹیکس سہولتیں فراہم کرے تاکہ فضائی شعبے میں سب کے لیے مساوی مواقع میسر ہوں،کمیٹی نے موبائل فونز پر مجوزہ ٹیکسوں کا بھی جائزہ لیا۔ ارکان نے مخصوص اسمارٹ فون برانڈز پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے درآمدی اسمارٹ فونز پر موجودہ ٹیکس نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ فون اب تعیش کی چیز نہیں بلکہ تعلیم، مالی شمولیت، ای کامرس، فری لانسنگ، ای گورننس اور روزگار کے لیے بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ ضرورت سے زیادہ ٹیکس ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو متاثر کرتا ہے، اس لیے حکومت خصوصا کم قیمت اور درمیانی درجے کے اسمارٹ فونز پر ٹیکسوں میں معقول کمی کرے تاکہ ڈیجیٹل رسائی، دستاویزی معیشت اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکے ۔کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فضائی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ایسی پالیسیاں ضروری ہیں جو منصفانہ مسابقت، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور تمام ایئرلائنز کی طویل المدتی بقا کو یقینی بنائیں، نہ کہ کسی ایک ادارے کو خصوصی فائدہ پہنچائیں۔

چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ مالیاتی پالیسی شفاف، منصفانہ اور ہر قسم کے امتیازی تاثر سے پاک ہونی چاہیے۔ حکومتی معاونت معروضی پالیسی اصولوں کے تحت تمام اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہیے ۔اجلاس میں اسٹیل سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس نظام پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ حکومتی حکام نے بتایا کہ بجلی کے استعمال کے مقررہ معیارات یعنی اسٹیل میلٹنگ کے لیے 700 یونٹ فی میٹرک ٹن اور اسٹیل ری رولنگ کے لیے 110 یونٹ فی میٹرک ٹن ، قانون میں واضح طور پر درج ہیں اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار سے منسلک ہیں، جس سے انتظامی صوابدید کا امکان ختم ہو جاتا ہے ،ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس نظام مکمل طور پر قانون کے مطابق، شفاف اور غیر ضروری انتظامی اختیارات سے پاک ہونا چاہیے۔

بجلی کے استعمال کے مجوزہ معیارات اور ٹیکس دہندگان کی تعمیل کے تناسب سے متعلق مزید وضاحت بھی طلب کی گئی تاکہ نظام سائنسی، معروضی اور یکساں طور پر قابلِ عمل ہو۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ تکنیکی جانچ اور پارلیمانی نگرانی کے بغیر آخری وقت میں قانون سازی میں تبدیلیاں قانونی ابہام اور عملدرآمد میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں لہذا ہر مجوزہ ترمیم کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ اجلاسوں کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، وزارت خزانہ، نیشنل ٹیرف کمیشن، وزارت صنعت، وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں نے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز، فیڈرل ایکسائز، ٹیرف اصلاحات، پٹرولیم لیوی، ڈیجیٹل ٹیکسیشن، بینکاری معلومات کے تبادلے، ٹیکس انتظامیہ، تعمیل کے نظام اور مختلف شعبوں کے لیے مالی مراعات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔چیئرمین سید نوید قمر نے اس موقع پر کہا کہ مالیاتی پالیسی کا مقصد صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، ٹیکس دہندگان کی رازداری کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایسا منصفانہ اور کاروبار دوست ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے جو صنعت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دے ۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متعدد سفارشات پیش کیں، جن میں بڑے ٹیکس اصلاحاتی اقدامات کا مرحلہ وار نفاذ، ادارہ جاتی نگرانی اور احتساب کو مضبوط بنانا، صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور موثر عملدرآمد کے لیے مضبوط نظام وضع کرنا شامل ہے۔

فنانس بل 2026 کے جائزے کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون سازی کو شفافیت، انصاف، مالیاتی ذمہ داری اور اچھی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال ہو، پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ ملے اور پاکستان کی طویل المدتی معاشی استحکام کو تقویت حاصل ہو۔ اجلاس کے دوران شرمیلا فاروقی نے الیکٹرک وہیکل پالیسی جبکہ محمد جاوید حنیف خان نے درآمدی موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس نظام کے حوالے سے اختلافی نوٹ جمع کرایا۔

اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان، علی زاہد، سید سمیع الحسن گیلانی، بلال فاروق تارڑ، محمد عثمان اعوانی، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم سمیت وزیر مملکت برائے خزانہ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری تجارت، ایڈیشنل سیکریٹری صنعت، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس ، ایف بی آر کے اراکین اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

مزید خبریں