وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں بلوچستان میں موجود لو بی ٹی یو گیس کے مؤثر استعمال، موناٹائزیشن اور اس سے وابستہ ترقیاتی امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اہم اجلاس

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 24 جون (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں بلوچستان میں موجود لو بی ٹی یو گیس کے مؤثر استعمال، موناٹائزیشن اور اس سے وابستہ ترقیاتی امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں حکومت بلوچستان اور وزارتِ پیٹرولیم کے درمیان لو بی ٹی یو گیس کو قابلِ عمل اور کارآمد بنانے پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لو بی ٹی یو گیس کے استعمال، سرمایہ کاری اور تجارتی امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے وزارتِ پیٹرولیم اور حکومت بلوچستان کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے جو جولائی 2026 کے اختتام تک جامع تجاویز اور سفارشات پر مشتمل فریم ورک مرتب کرے گا ۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سوئی اور دیگر متعلقہ علاقوں میں دستیاب لو بی ٹی یو گیس کو سستی بجلی کی پیداوار، فرٹیلائزر صنعت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لیے قابلِ استعمال بنایا جائے تاکہ صوبے میں صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ وزارتِ پیٹرولیم نے اس سلسلے میں اوگرا فیلڈ ڈویلپمنٹ اور اوگرا ٹرانسپورٹ لائسنس کے اجرا کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے حکومت بلوچستان کو تھرڈ پارٹی کمپنی کے ذریعے ایکوئٹی حاصل کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان جو بھی فیصلہ کرے گی، وزارتِ پیٹرولیم اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کا حقیقی فائدہ مقامی آبادی تک پہنچانا وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) فنڈز کو مقامی آبادی کی فلاح و بہبود، سماجی ترقی اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا تاکہ وسائل کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں ۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کلچاس ڈرلنگ اور زنک ہیڈ منصوبے کو فعال بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ ان منصوبوں سے وابستہ معاشی اور صنعتی فوائد جلد از جلد حاصل کیے جا سکیں ۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ لو بی ٹی یو گیس کو قابلِ استعمال بنا کر بلوچستان کی معاشی ترقی، صنعتی خوشحالی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی سمیت ایسٹ اور ویسٹ ڈیرہ بگٹی میں لو بی ٹی یو گیس کے استعمال سے صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس سے نہ صرف مقامی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے ثمرات سب سے پہلے مقامی آبادی تک پہنچنا چاہیے اور یہ وفاق اور صوبے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان وسائل کی مؤثر مونا ٹائزیشن کے ذریعے صوبے کی معاشی خودمختاری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے سوئی میں لو بی ٹی یو گیس کو موناٹائز کرکے مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنا کر پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے گا ۔میر سرفراز بگٹی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مؤثر تعاون کے نتیجے میں بلوچستان میں صنعتی، اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان اور بلوچستان کے عوام کے وسیع تر مفاد میں تمام اجتماعی ترقیاتی منصوبوں کی مکمل حمایت کی جائے گی تاکہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے نئے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ہمراہ پارلیمانی سیکرٹری توانائی بلوچستان میر اصغر رند، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ، سیکرٹری انرجی اسفندیار کاکڑ، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سمیت متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔








