محرم الحرام میں امن و امان کے قیام و بین المسالک ہم آہنگی کیلئے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ حکومت کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہے ہیں،طاہر محمود اشرفی ودیگر کی پریس کانفرنس
محرم الحرام میں امن و امان کے قیام و بین المسالک ہم آہنگی کیلئے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ حکومت کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہے ہیں،طاہر محمود اشرفی ودیگر کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
لاہور۔24جون (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر وزیر اعظم و قومی پیغام امن کمیٹی حکومت پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ محرم الحرام میں امن و امان کے قیام اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہے ہیں۔قومی پیغام امن کمیٹی حکومت پاکستان نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے ویژن کے مطابق گذشتہ چند ماہ کے دوران جس طرح انتہا پسندی ، دہشت گردی ، فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کے خلاف بھرپور آواز بلند کی وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز یہاں سید ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا رمضان سیالوی، پروفیسر ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا حافظ محمد امجد، مولانا قاسم قاسمی ، مولانا حافظ مقبول احمد، مولانا محمد شریف چنگوانی، مولانا اسلم صدیقی، مولانا قاری عبد الحکیم اطہر، مفتی فلک شیر، مولانا زاہد منصور، علامہ سلمان نقوی ، صغیر احمد ورک، مفتی شاہد محمود ، مولانا زبیر فہیم اور دیگر نے مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔
قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین نے ملک بھر میں تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ ، مذہبی و سیاسی جماعتوں سے محرم الحرام سے قبل ہی رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور جہاں پر بھی جو بھی مسئلہ درپیش ہوا اس کو صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ اب تک پورے ملک کے اندر پیغامِ پاکستان ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور تمام مکاتبِ فکر کے علما، مشائخ، ذاکرین، واعظین اور خطبا اس پر عمل کر رہے ہیں۔ اگر کہیں پر کوئی شکایت آئی ہے تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوئی ہے اور ہو رہی ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اس مرتبہ 10محرم الحرام جمع المبارک کو ہے لہذا بعض مقامات پر جلوس ، مجالس اور خطبہ جمع المبارک کا وقت اور مقام ایک ہی ہے ۔ اس سلسلہ میں قومی پیغام امن کمیٹی اور صوبائی پیغام امن کمیٹیوں نے صوبائی اور مقامی حکومتوں نے بہترین ترتیب قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ ، ذاکرین ، واعظین ، خطبا سے گذارش ہے کہ وہ 10 محرم الحرام 26 جون کو خطبات جمعہ میں عوام کو پیغام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ، پیغام وحدت ، اتحاد ، امن و سلامتی ، رواداری کے عنوان پر بیان کریں اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو سلام عقیدت پیش کریں۔ پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی فرد کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی تقریر ، ویڈیو ، آڈیو کو نشر نہ کریں جس سے انتشار و فساد پھیلے ، اگر کسی مقام پر کوئی مسئلہ پیدا ہو تو مقامی انتظامیہ اور امن کمیٹی کے ممبران کو آگاہ کریں ، سیکورٹی کے حوالے سے مقامی پولیس ، سلامتی کے اداروں سے تعاون کریں۔
انہوں نے کہا کہ رواداری ، محبت اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقت کوڈ کی پابندی کریں اور اگر کسی جگہ کوئی ایمرجنسی پیش آئے تو ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ تمام مکاتب فکر ، مسالک کے مقدسات محترم ہیں ، اپنا مسلک چھوڑو نہیں دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں پر عمل کریں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علما اور مشائخ نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے امریکہ ایران امن معاہدہ کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور تحسین کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی کوششوں کو نہ صرف خراجِ تحسین پیش کیا،
بلکہ گزشتہ روز ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کو ایک مثبت اور انتہائی اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شا اللہ پاکستان کی قیادت کی کوششوں سے مسلم امہ کی وحدت اور اتحاد مضبوط ہوگا، اور مسئلہ فلسطین سے کشمیر تک امتِ مسلمہ کے مسائل حل ہوں گے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، وہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔








