وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری سے امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کی ملاقات، بحری شعبے میں تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق

پاکستان اور امریکا نے بحری شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع، بندرگاہوں کی ترقی اور بلیو اکانومی کے شعبے میں شراکت داری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):پاکستان اور امریکا نے بحری شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع، بندرگاہوں کی ترقی اور بلیو اکانومی کے شعبے میں شراکت داری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کے درمیان بدھ کو وزارت بحری امور میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان بحری تجارت، سرمایہ کاری، بندرگاہی انفراسٹرکچر کی ترقی، لاجسٹکس نیٹ ورکس کی بہتری اور علاقائی و بین الاقوامی تجارتی روابط کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی بندرگاہوں اور ساحلی وسائل کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کو میری ٹائم انفراسٹرکچر، شپنگ، لاجسٹکس اور بندرگاہوں سے متعلق خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست ماحول فراہم کر رہی ہے اور بلیو اکانومی کی ترقی میں امریکی شراکت داری کا خیرمقدم کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحری شعبے میں امریکی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ملاقات کے دوران بندرگاہی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، لاجسٹکس نظام کو موثر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے رابطوں میں بہتری پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے بحری تجارت میں اضافے اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی بلیو اکانومی سے وابستہ سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ کیا۔

اس موقع پر اصولی طور پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا جو بحری شعبے میں دوطرفہ رابطوں، تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید بڑھانےاور بحری ترقی کے شعبے میں شراکت داری کو مضبوط بنانے میں واشنگٹن کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے بلیو اکانومی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کا بھی ذکر کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے بحری امور، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے، نئے مواقع تلاش کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔