عمان کا آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے کا اعلان

عمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا رکھے گا اور اس پر کسی قسم کا ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔عمان نے خطے سے روانہ ہونے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے موجودہ بحری راستے کے شمال اور جنوب میں دو عارضی راستے بھی مقرر کر دیے ہیں

مسقط۔24جون (اے پی پی):عمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا رکھے گا اور اس پر کسی قسم کا ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔عمان نے خطے سے روانہ ہونے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے موجودہ بحری راستے کے شمال اور جنوب میں دو عارضی راستے بھی مقرر کر دیے ہیں۔اردو نیوز کے مطابق عمان نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے تعاون سے عارضی بحری راہداریاں قائم کی ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے دوران جہاز محفوظ طریقے سے علاقے سے نکل سکیں۔ بحری جہازوں کے لیے جاری کردہ ایک نوٹس میں عمان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس وقت اس اہم آبی گزرگاہ میں موجود ’ٹریفک سیپریشن سکیم‘ محفوظ استعمال کے قابل نہیں رہی، لہٰذا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز موجودہ بحری راستوں کے شمالی اور جنوبی جانب قائم کیے گئے عارضی راستے استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ اسکیم 1968 میں اقوام متحدہ کے بحری ادارے نے منظور کی تھی، جس کے تحت آبنائے ہرمز میں ایرانی اور عمانی سمندری حدود کے ذریعے مخصوص جہاز رانی کے راستے متعین کیے گئے تھے۔عمان نے کہا کہ یہ اقدامات آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں، عالمی معیشت میں اس آبی گزرگاہ کی اہمیت، بین الاقوامی قانون اور جہاز رانی کی آزادی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔عمان نے اس سلسلے میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ مفاہمت کا بھی حوالہ دیا۔عمان نے زور دیا کہ بحری سفر کی حفاظت سب سے اہم ترجیح ہے اور تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت کو مرحلہ وار اور منظم انداز میں انجام دینا ضروری ہے۔آئی ایم او اورعمانی حکام کے باہمی تعاون سے تیار کردہ منصوبے کے تحت جہازوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر جہاز سے الگ رابطہ کر کے روانگی کے وقت اور استعمال کیے جانے والے راستے کے بارے میں ہدایات دی جائیں گی۔

ایک روز قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا تھا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز پر ٹول یا فیس لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون ہے اور میرا خیال ہے کہ اس خطے کے تمام ممالک ہمارے اس موقف سے اتفاق کریں گے۔