کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کئی وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دیدی

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کئی وزارت اور ڈویژنز کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دیدی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کو وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارتِ …

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کئی وزارت اور ڈویژنز کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دیدی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کو وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارتِ دفاع کی جانب سے پیش کی گئی دو سمریوں کی منظوری دی گئی۔

کمیٹی نے یومِ آزادی اور "معرکۂ حق” کی تقریبات 2025 کے اخراجات کے لیے 1 ارب 28 کروڑ 90 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔ علاوہ ازیں اسلام آباد میں معرکۂ حق یادگار منصوبے کی تعمیر، جسے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن مکمل کرے گی، کے لیے 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ کمیٹی نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے پیش کی گئی دو سمریوں کی بھی منظوری دی۔ ان میں پاکستان آسان خدمت مرکز، اسلام آباد کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے لیے 4 ارب 50 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ اور 91 کروڑ 12 لاکھ روپے کی بچت کو اسمارٹ اسلام آباد انیشی ایٹو کے لیے مختص کرنے کی منظوری شامل ہے۔

ای سی سی نے وزیراعظم معائنہ کمیشن کی سمری منظور کرتے ہوئے ملازمین سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے 82 لاکھ 16 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔ کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کی دو سمریوں پر بھی غور کیا اور بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے( پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ) اور پاکستان پولیس سروس کے افسران کے لیے مراعاتی پیکج پر عمل درآمد کے لیے 31 کروڑ 23 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔ اس کے علاوہ ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم کو یکم جولائی 2026 سے ختم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی سمری منظور کرتے ہوئے ضلع شانگلہ سے متعلق پی ایس ڈی پی منصوبے کے لیے 79 کروڑ 37 لاکھ روپے کی منتقلی کی منظوری دی گئی تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔وزارتِ صنعت و پیداوار کی سمری پر ای سی سی نے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مالی سال 2025-26 کے پہلے سے منظور شدہ بجٹ سے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی تاکہ ملازمین کو ادائیگیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔وزارتِ بحری امور کی سمری منظور کرتے ہوئے ملک بھر میں ماہی گیری کی کشتیوں پر ویسل مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کے منصوبے میں وفاقی حکومت کے حصے کے طور پر 60 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔

کمیٹی نے پاور ڈویژن کی سمری پر غور کرتے ہوئے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (گارنٹی) کو ڈسکوز میں حکومتی ایکویٹی کے لیے 52 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔ مزید برآں کے-الیکٹرک کے لیے مختص 97 ارب 64 کروڑ 90 لاکھ روپے کو انٹر ڈسکو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی میں منتقل کرنے اور ٹیسکو کے 44 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ روپے کے بقایا سبسڈی دعووں کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی سمری منظور کرتے ہوئے فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (شمالی) کی آپریشنل ضروریات اور استعداد میں اضافے کے لیے 25 کروڑ روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔

وزارتِ پیٹرولیم کی سمری پر غور کرتے ہوئے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے میزان بینک لمیٹڈ سے حاصل کردہ 50 ارب روپے کی مالی سہولت کے لیے جاری خودمختار حکومتی ضمانتوں کی مدت 30 جون 2027 تک بڑھانے کی منظوری دی گئی۔باقاعدہ ایجنڈے کے علاوہ وزارتِ ریلوے کی سمری پر غور کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کے لیے گرانٹ اِن ایڈ میں 7 ارب روپے اضافے کی منظوری دی گئی۔نجکاری ڈویژن کی سمری منظور کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے انتظامی امور اور معمول کی کارروائی جاری رکھنے کے لیے 2 کروڑ 24 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی مزید دو سمریوں پر بھی غور کیا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے ملازمین سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے 19 کروڑ 32 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔ اس کے علاوہ سول آرمڈ فورسز کے شہداء کے اہلِ خانہ کو واجبات کی ادائیگی کے لیے 4 ارب 20 کروڑ روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی، تاہم ہدایت کی گئی کہ یہ رقم موجودہ مالی سال میں دستیاب بچت سے ادا کی جائے جبکہ باقی ضرورت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پوری کی جائے گی۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیرِ سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔