چین اور پاکستان کے زیرِ اہتمام آریا-فارمولا اجلاس ، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے خلا کو پُر کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ پر غور
چین اور پاکستان کے زیرِ اہتمام آریا-فارمولا اجلاس ، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے خلا کو پُر کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ پر غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جون (اے پی پی):چین اور پاکستان کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا آریا-فارمولا اجلاس منعقد ہوا جس میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے خلا کو پُر کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ پر غور کیا گیا۔جمعرات کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک آریا-فارمولا اجلاس منعقد کیا، جس نے رکن ممالک کو اس امر پر غور کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا کہ سلامتی کونسل اپنی قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور غیر امتیازی عملدرآمد کو کس طرح یقینی بنا سکتی ہے۔
اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے معاون سیکرٹری جنرل خالد خیاری، سکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شامالا کندیاہ اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے رچرڈ گووان نے بریفنگ دی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عملدرآمد سلامتی کونسل کی ساکھ، اختیار اور مؤثریت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹ، واضح طریقۂ کار، مسلسل رپورٹنگ، مناسب وسائل، سیاسی عزم اور مؤثر فالو اپ کے ایسے نظام موجود ہونے چاہئیں جو سلامتی کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کر سکیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قراردادوں پر انتخابی بنیادوں پر یا طویل عرصے تک عملدرآمد نہ ہونا سلامتی کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے، حل طلب تنازعات کو طول دیتا ہے اور انسانی مصائب میں اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے معاملات میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ایک اہم بین الاقوامی تنازعہ اب تک حل طلب ہے، جس کے بین الاقوامی امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کشمیری عوام طویل انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستان نے عملی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں غیر نافذ شدہ اور جزوی طور پر نافذ شدہ قراردادوں کا سالانہ جائزہ، عملدرآمد کے زیادہ واضح طریقۂ کار، مؤثر فالو اپ کے نظام اور سیکریٹری جنرل کی سفارتی کاوشوں، امن مشنز اور علاقائی انتظامات کو سلامتی کونسل کے فیصلوں سے بہتر ہم آہنگ کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے اراکین اور دیگر رکن ممالک نے چین اور پاکستان کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور مختلف ممالک اور موضوعاتی معاملات میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے فیصلے حقیقت پسندانہ، قابلِ عمل اور مستقل سفارت کاری، باقاعدہ جائزے، بروقت رپورٹنگ اور مناسب وسائل کی معاونت سے مزین ہونے چاہییں۔
اجلاس میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ قراردادوں پر عملدرآمد سلامتی کونسل کی ساکھ اور افادیت کا بنیادی امتحان ہے۔ اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل، غیر جانبدارانہ اور پُرعزم نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔اس بروقت مباحثے کے مشترکہ انعقاد کے ذریعے چین اور پاکستان نے کثیرالجہتی نظام، سلامتی کونسل کے اختیار، اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی مشترکہ وابستگی کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔








