ناسا کا نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری کو کرہ ہوائی میں داخل ہونے سے بچانے کے لیے خصوصی خلائی مشن تیار

امریکی خلائی ادارہ ناسا نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری کو کرہ ہوائی میں داخل ہونے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ حالیہ شدید شمسی سرگرمیوں کے باعث اس کا مدار تیزی سے مختصر ہو رہا ہے۔

واشنگٹن۔29جون (اے پی پی):امریکی خلائی ادارہ ناسا نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری کو کرہ ہوائی میں داخل ہونے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ حالیہ شدید شمسی سرگرمیوں کے باعث اس کا مدار تیزی سے مختصر ہو رہا ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق 30 ملین ڈالر مالیت کا یہ مشن کیٹالسٹ سپیس ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے انجام دیا جائے گا اور اس کا آغاز رواں ہفتے کے اوائل میں متوقع ہے۔مشن کے دوران تین بازوؤں سے لیس ایک روبوٹک خلائی جہاز آبزرویٹری کے ساتھ مدار میں ملے گا اور اسے زیادہ بلند اور مستحکم مدار میں منتقل کرے گا، تاکہ وہ کائنات میں ہونے والے بڑے دھماکوں کا مشاہدہ جاری رکھ سکے۔خلائی جہاز کو پیگاسس ایکس ایل راکٹ کے ذریعے جزائر مارشل سے رواں ہفتے ہی خلا میں بھیجے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری 2004 سے فعال ہے اور زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہونے سے بچنے کے لیے اسے جلد از جلد بلند مدار میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری (Neil Gehrels Swift Observatory) ناسا کی ایک خلائی دوربین (Space Telescope)ہے، جسے 20 نومبر 2004 کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔اس کا بنیادی مقصد کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں، خصوصاً گاما رے برسٹس (Gamma-Ray Bursts – GRBs) کا فوری سراغ لگانا اور ان کا مشاہدہ کرنا ہے۔ گاما رے برسٹس کائنات میں ہونے والے سب سے طاقتور دھماکوں میں شمار ہوتے ہیں، جو عموماً بڑے ستاروں کے پھٹنے یا نیوٹران ستاروں کے باہمی تصادم کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔