وفاقی حکومت نے پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کی کامیاب پہلی فنانشل کلوزنگ کے ساتھ ہی کمپنی کا انتظامی اختیار منتقل کر دیا
وفاقی حکومت نے پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کی کامیاب پہلی فنانشل کلوزنگ کے ساتھ ہی کمپنی کا انتظامی اختیار منتقل کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):وفاقی حکومت نے پی آئی اے سی ایل کی نجکاری میں پہلی فنانشل کلوزنگ مکمل کر لی ، شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ کے تحت تمام شرائط مکمل کرنے کے بعد انتظامی اختیار سرمایہ کار کنسورشیم کو منتقل کر دیا ۔ پیر کو نجکاری کمیشن سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے سلسلے میں پہلی فنانشل کلوزنگ مکمل کرلی گئی ہے، شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ (ایس پی ایس اے ) کے تحت تمام شرائط مکمل کر لینے کے بعد ایئر لائن کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی زیر قیادت سرمایہ کار کنسورشیم کو منتقل کر دیاگیا۔پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کے تحت پہلی فنانشل کلوزنگ کی کامیاب تکمیل حکومت پاکستان کے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی مانند ہے۔
یہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست نجکاری کے ایجنڈے کے نفاذ کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے ہمیشہ مستقل معاشی نمو، سرمایہ کاری اور روزگار کے محرک کے طور پر نجی شعبے کے زیادہ سے زیادہ کردار پر زور دیا ہے۔نجکاری کمیشن نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کو بھی بالخصوص سراہتا ہے ۔ 29 جنوری 2026 کو شیئر خریداری کے معاہدے کے بعد سے نجکاری کمیشن اور حکومت پاکستان کے دیگر سٹیک ہولڈرز بشمول وزارت دفاع نے پیشگی شرائط کا ایک مشکل چیلنج عبور کیا۔
ان میں اندرون ملک اور بیرون ملک ریگولیٹری منظوریاں ، لیز دہندگان سے اور دیگر تجارتی منظوریاں ، ہوا بازی کی پالیسی اصلاحات، کارپوریٹ منظوریاں، پرانے واجبات سے متعلق ٹیکس کی تنظیم نو، ہوائی جہاز کے فنانسنگ کے انتظامات، گورننس میں تبدیلیاں، ٹیکس سے متعلق معاملات، ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کے انتظامات شامل ہیں۔ان مشکلات کے باوجود تمام تر شرائط کو ایک غیر معمولی طور پر کم ٹائم فریم کے اندر مکمل کیا گیا اور اس دوران بلا تعطل ایئرلائن آپریشنز کو برقرار رکھا گیا، ملازمین کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ، اور مسافروں کے لیے خدمات کے تسلسل کو یقینی بنایا گیا۔ 23 دسمبر 2025 کو منعقد ہونے والی کھلی ، منصفانہ اور شفاف بولی کے عمل کے ذریعے حکومت پاکستان نے 180 ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کی یقین دہانی حاصل کی جس میں حکومت پاکستان کو55 ارب کی ادائیگی ہو گی اور 125 ارب سے پی آئی اے سی ایل میں نئی سرمایہ کاری کی جائے گی جس سے قومی کیریئر کو اس کی ماضی کی شان کے مطابق بحال کرنے میں مدد حاصل ہو گی۔
پیشگی شرائط کی تکمیل کے بعد پہلی فنانشل کلوزنگ کے تحت 10 ارب روپے کی حکومت پاکستان کو ادائیگی اور پی آئی اے سی ایل میں 80 ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری جس سے ایئر لائن کی مالی حالت مضبوط ہو گی، ہوائی بیڑے کی توسیع اور جدت میں مدد ملےگی ، آپریشنل کارکردگی اور کسٹمر سروس کو بہتر بنایا جا سکےگا اور ایئر لائن کو طویل مدتی ترقی کے لئے تیار کیا جا سکے گا ۔ دوسری فنانشل کلوزنگ شیئر خریداری معاہدے کی شرائط کے مطابق پہلی کلوزنگ کے 12ماہ کے اندر ہو گی جس کے تحت کنسورشیم پی آئی اے سی ایل میں مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔
مزید برآں اسی مدت کے دوران معاہدے کی متفقہ شرائط کے تحت کنسورشیم جس نے پہلے ہی حکومت پاکستان کو اپنی آمادگی ظاہر کر رکھی ہے، 45 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کے ساتھ بقیہ 25% شیئرز کو کال آپشن کے طور پر خرید پائے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ یہ نجکاری ایک شفاف، منصفانہ، مسابقتی اور پیشہ وارانہ طور پر منظم عمل کے ذریعے پیچیدہ ٹرانزیکشن کو انجام دینے کی پاکستان کی صلاحیت کا مظہر ہے ، یہ نجکاری معاشی اصلاحات، مالیاتی ذمہ داری اور نجی شعبے کی زیادہ شراکت کے لئے حکومت کے عزم کے لئے تقویت کا باعث ہے جس سے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا ۔
حکومت ملازمین، مسافروں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے اور نجکاری کے دوران ایک ہموار منتقلی اور بلا تعطل ایئر لائن آپریشنز کو یقینی بنایا جائے گا ، تمام قابل اطلاق ہوا بازی کے قوانین اور ریگولیٹری نگرانی کا اطلاق جاری رہے گا۔نجکاری کمیشن اس کامیابی کے لئے وفاقی کابینہ کی معاونت اور نجکاری کمیشن بورڈ، دیگر شریک وزارتوں خاص طور پر وزارت دفاع،وزارت خزانہ اور دیگر سرکاری اداروں، اور مقامی ریگولیٹری اتھارٹیز اور اس نجکاری کے لئے متعین مالیاتی مشیر، ای وائے کنسلٹنگ دوبئی کے زیر قیادت قائم کنسورشیم کے تعاون اور کوششوں کا معترف ہے ۔یہ پہلی کلوزنگ پاکستان کے پرائیویٹائزیشن پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی مانند ہے۔








