پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے نئی انتظامیہ کے تحت اپنے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بیڑے کی جدید کاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور 125 ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری کے ذریعے قومی ایئرلائن کو دوبارہ عالمی معیار کا پریمیم کیریئر بنایا جائے گا۔
125 ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری کے ذریعے قومی ایئرلائن کو دوبارہ عالمی معیار کا پریمیم کیریئر بنایا جائے گا، نئی انتظامیہ پی آئی اے

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے نئی انتظامیہ کے تحت اپنے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بیڑے کی جدید کاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور 125 ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری کے ذریعے قومی ایئرلائن کو دوبارہ عالمی معیار کا پریمیم کیریئر بنایا جائے گا۔
پی آئی اے کے کارپوریٹ کمیونیکیشن ڈویژن کی جانب سے پیر کو جاری بیان کے مطابق پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ نے باضابطہ طور پر قومی ایئرلائن کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ یہ کنسورشیم پاکستان کے ممتاز صنعتی اور مالیاتی اداروں، جن میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، دی سٹی سکول (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز شامل ہیں، پر مشتمل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نیا انتظامی ڈھانچہ روایتی بیورو کریٹک رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے تیز، مؤثر اور کاروباری تقاضوں سے ہم آہنگ فیصلہ سازی کو فروغ دے گا جس سے پی آئی اے کو عالمی معیار کی ایئرلائن بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔پی آئی اے کے مطابق کنسورشیم کی جانب سے 125 ارب روپے کی نئی ایکویٹی سرمایہ کاری براہ راست قومی ایئرلائن میں کی جائے گی۔ یہ سرمایہ کاری آپریشنل اصلاحات، طیاروں کے بیڑے کی جدید کاری، نئے ملکی و بین الاقوامی فضائی روٹس کے آغاز، ادارے کی ڈیجیٹل تبدیلی اور مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔
اس موقع پر نئی انتظامیہ کے چیئرمین نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایک قوم کا اعتماد مسلسل معیاری خدمات، بہتر کارکردگی اور ہر سفر کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی انتظامیہ اس ذمہ داری کو پورے عزم کے ساتھ نبھائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی آئی اے کے درخشاں ورثے کا احترام کرتے ہوئے اسے ایک جدید اور عالمی معیار کی پریمیم ایئرلائن بنایا جائے گا، مسافروں کا اعتماد بحال کیا جائے گا اور ایک بار پھر ثابت کیا جائے گا کہ پی آئی اے "باکمال لوگ، لاجواب پرواز” تھی اور ہمیشہ رہے گی۔








