وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کے بہائو کو بہتر بنانے اور ٹریفک قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شاپنگ مالز، تجارتی مراکز، مارکیٹوں اور بڑی شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کریک ڈائون مزید تیز کر دیا۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس کا شاپنگ مالز، تجارتی مراکز، مارکیٹوں اور بڑی شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کریک ڈائون مزید تیز

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کے بہائو کو بہتر بنانے اور ٹریفک قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شاپنگ مالز، تجارتی مراکز، مارکیٹوں اور بڑی شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کریک ڈائون مزید تیز کر دیا۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے اور روڈ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی خصوصی ہدایات پر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہر میں ٹریفک کے بہائو کو برقرار رکھنے، مربوط ٹریفک نظام کو مزید بہتر بنانے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں نو پارکنگ زونز اور فٹ پاتھوں پر گاڑیاں کھڑی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شاپنگ مالز، مارکیٹوں، تجارتی مراکز اور بڑی شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کائنات اظہر خان نے تمام زونل ڈی ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے سخت اور موثر اقدامات کیے جائیں اور ٹریفک ڈسپلن متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی مراکز میں شہری اپنی گاڑیاں صرف مختص پارکنگ ایریاز میں کھڑی کریں جبکہ نو پارکنگ زونز میں گاڑیاں کھڑی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کا حق ہیں، اس لیے وہاں کسی قسم کی پارکنگ یا رکاوٹ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔چیف ٹریفک آفیسر نے کہا کہ تجارتی مراکز میں آنے والے شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور اسلام آباد پولیس سے تعاون کریں تاکہ شہر میں ٹریفک کا مربوط اور منظم نظام برقرار رکھا جا سکے۔








