اسلاموفوبیا کا انسداد انسانی حقوق کا بنیادی تقاضا ہے، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کا انسداد بنیادی طور پر انسانی حقوق کا تقاضا ہے اور آزادی اظہار کو کسی بھی مذہب یا اس کے ماننے والوں کے خلاف نفرت، امتیاز یا تشدد کو فروغ دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کا انسداد بنیادی طور پر انسانی حقوق کا تقاضا ہے اور آزادی اظہار کو کسی بھی مذہب یا اس کے ماننے والوں کے خلاف نفرت، امتیاز یا تشدد کو فروغ دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ترجمان کے مطابق یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسدادِ اسلاموفوبیا اور اقوام متحدہ کے الائنس آف سیولائزیشنز کے اعلیٰ نمائندے میگوئل اینخل موراتینوس سے ملاقات کے دوران کہی۔

ملاقات میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر نے میگوئل اینخل موراتینوس کو اقوام متحدہ کا خصوصی ایلچی مقرر ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اسلاموفوبیا کے انسداد، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جبکہ حکومت مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے دنیا بھر میں اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر، مذہبی امتیاز، مسلم کمیونٹیز اور عبادت گاہوں پر حملوں، آن لائن اشتعال انگیزی اور مذہبی شعائر کی بے حرمتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں اور مذہبی آزادیوں پر عائد پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ عالمی برادری کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے۔ملاقات میں اسلاموفوبیا کے انسداد کے لئے مجوزہ اقوام متحدہ کے پلان آف ایکشن، بین المذاہب مکالمے، عالمی سطح پر تحقیق اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور رواداری و باہمی احترام کے فروغ کے لئے ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا۔

 

مزید خبریں