دادرسی کا موثر فورم موجود ہو تو ہائیکورٹ میں آئینی درخواست قابل سماعت نہیں، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ جہاں قانون کے تحت دادرسی کے لیے موثر اور مجاز فورم موجود ہو وہاں براہ راست ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی دائرہ اختیار متبادل قانونی فورمز کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ جہاں قانون کے تحت دادرسی کے لیے موثر اور مجاز فورم موجود ہو وہاں براہ راست ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی دائرہ اختیار متبادل قانونی فورمز کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

تفصیلی تحریری فیصلہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے یہ اہم فیصلہ سندھ سیکرٹریٹ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے انتخابات سے متعلق کیس میں جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رٹ پٹیشنز کے ذریعے متنازع حقائق پر مبنی مقدمات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسے معاملات میں شواہد ریکارڈ کر کے حقائق کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے جو مجاز فورم کا اختیار ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹس براہ راست متنازع حقائق کا تعین نہیں کر سکتیں۔ اگر تنازع حقائق پر مبنی ہو تو متعلقہ فورم شواہد ریکارڈ کر کے درست حقائق کا تعین کرے گا۔وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سندھ سیکرٹریٹ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ قانون کے مطابق سوسائٹی کے انتخابات کو مجاز فورم یعنی کوآپریٹو کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا تھا، اس لیے انہیں براہ راست ہائی کورٹ میں چیلنج کرنا درست قانونی راستہ نہیں تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے کوآپریٹو کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سندھ سیکرٹریٹ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے انتخابات سے متعلق تنازع ایک ماہ کے اندر قانون کے مطابق نمٹائے۔

 

مزید خبریں